ریٹاطوفان:جانی نقصان نہیں ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں امدادی کارکن ان لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں جنہوں نے سمندری طوفان کے خطرے کے باوجود اپنے گھروں سے جانے سے انکار کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق امدادی کارکنوں نے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ریٹا کے بعد آنے والے سیلاب میں پھنسے ہوئے پانچ سو لوگوں کو وہاں سے نکال لیا ہے اور مزید لوگوں کی تلاش جاری ہے۔ سمندری طوفان ریٹا نے امریکہ کے جنوبی ساحلی علاقوں کے کئی شہروں کو بری طرح نقصان پہنچایا لیکن کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ صدر جارج بش نے جو سینچر کو ٹیکساس میں موجود تھے، لوگوں سے کہا ہے کہ واپس گھروں کو جانے میں جلدی کا مظاہرہ نہ کریں۔ امریکی صدر جارج بش نے ریٹا سمندری سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ صدر بش کو کٹرینا سمندری طوفان سے نمٹنے کے نامناسب انتظامات کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سمندری طوفان ریٹا سنیچر کو ٹیکساس اور لوئزیانا کے ساحلی علاقے کو ٹکرایا تھا لیکن امریکہ کا چوتھا بڑا شہر ہوسٹن اس طوفان سے بچ گیا تھا۔ طوفان کے خطرے کی بنا پر وہاں سے چلے جانے والے لوگ پہلے ہی واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ٹیکساس کے گورنر نے لوگوں سے کہا ہے کہ اپنے گھروں کو واپس جانے میں جلدی کا مظاہرہ نہ کریں ۔ اطلاعات کے مطابق گھروں کو واپسی کی وجہ ٹریفک جام نظر آ رہے ہیں۔ ٹیکساس کی ریاست ایسے اقدامات کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو قائل کر سکے کہ وہ گھروں کو واپس جانے میں جلدی نہ کریں۔ ٹیکساس کے گورنر رک پیری نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جہاں ہیں وہیں ٹھہرے رہیں کیونکہ ابھی بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔ ریٹا طوفان بہت زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوا ہے اور ساحلی علاقوں تک پہنچنے تک اس کی تیزی میں کافی کمی واقع ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود مالی نقصان کافی ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||