ریٹا کی تباہی سامنے آنا شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند گھنٹے پہلے امریکہ کے جنوبی ساحلوں سے ٹکرانے والے سمندری طوفان ریٹا کی تباہی کی تفصیلات اب سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ٹیکساس اور لوئزیانا سے کے ساحلی علاقے بیس فٹ اونچی لہروں اور دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی سمندری ہواؤں کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ان جگہوں پر عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اور ملبے کے ٹکڑے سڑکوں پر پڑے ہیں، بڑے پیمانے پر بجلی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور کئی جگہ پر سیلاب بھی آ گیا ہے۔ ٹیکساس کا قصبہ سبین پاس اور لوئزیانا کا علاقہ کیمرون طوفان کے ابتدائی قہر کا نشانہ بنا۔ علاقے میں اس طوفان کے دوران پچیس انچ بارش ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ علاقے میں موجود اخباری نمائندوں کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں میں ملبہ اڑتا نظر آ رہا ہے اور بجلی کے ٹرانسفارمر پھٹنے سے دھماکے بھی ہوئے ہیں۔ طوفان سے متاثر ہونے والے علاقے میں ابھی رات کا وقت ہے اور نقصان کا صحیح اندازہ دن کی روشنی میں لگایا جا سکےگا۔ طوفان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سمندری لہروں سے ٹیکساس کے ساحلی علاقے کو شدید خطرہ لاحق ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ’انرجی سٹی‘ کے نام سے پہچانا جانے والا علاقہ پورٹ آرتھر سیلابی پانی میں ڈوب سکتا ہے۔ ریاست ٹیکساس کے بیس لاکھ سے زیادہ باشندے اپنےگھر بار چھوڑ کر شمال کی جانب چلے گئے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق امریکہ کا چوتھا بڑا شہر ہیوسٹن جمعہ کی شام خالی ہوگیا۔ شہر کے زیادہ تر رہائشیوں نے طوفان کی اطلاع کے بعد شہر چھوڑنا ہی مناسب سمجھا۔ تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ہیوسٹن اور گیلویسٹن ریٹا کی زد میں براہ راست آنے سے بچ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق بدترین حالات کی صورت میں ریاست ٹیکساس کے پچپن لاکھ باشندے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ریاست ٹیکساس میں اتنی زیادہ آبادی کے ایک ہی وقت میں سڑکوں پر نکل آنے سے مشکلات پیدا ہو گئیں۔ شہر چھوڑنے والے جلد از جلد علاقے سے نکلنا چاہتے تھے کیونکہ انہیں خوراک، پانی اور ایندھن میں کمی کا سامنا تھا۔ امریکہ کے قومی ہیریکین سنٹر نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگرچہ ریٹا طوفان کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے تاہم اب بھی ٹیکساس اور لوئزیانا میں 195 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے چلنے اور ٹیکساس کے ساحل پر پندرہ فٹ اونچی لہریں آنے کی توقع ہے۔ ادھر گیلویسٹن شہر کے مرکز میں آگ بھڑک اٹھی جس میں سمندری ہواؤں کی وجہ سے تیزی آگئی۔ گلوسٹن شہر کا زیادہ تر حصہ طوفان کے پیشِ نظر خالی کرایا جا چکا ہے۔ قطرینہ سے متاثرہ امریکی ریاست لوئزیانا کے صدر مقام نیوآرلینز کے مرمت شدہ بند سے پانی پھر رسنا شروع ہو گیا ہے تاہم فوج کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ شہر میں اصل نقصان تو گزشتہ سمندری طوفان سے ہو چکا ہے اور اب نقصان کیلیے بہت کم ہی بچا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||