ایرانیوں کی قیدیوں سےملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی حکام کو پہلی بار عراق میں امریکی فوج کی قید میں پانچ ایرانیوں سے ملاقات کی اجازت ملی ہے۔ امریکی فوج نے ان ایرانیوں کو اربل سے جنوری میں گرفتار کیا تھا اور یہ شمالی عراق میں قید ہیں۔ عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زبیری نے کہا کہ ’بغداد میں ایران کے سفیر سمیت تین ایرانی سفارتکاروں نے مقید ایرانیوں سے ملاقات کی‘۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ پانچوں ایرانیوں کا تعلق ایران کے خصوصی دستے پاسدارانِ انقلاب سے ہے اور یہ عراق میں شدت پسندوں کی مدد کر رہے تھے۔ جناب زبیری نے امید ظاہر کی کہ قیدیوں کے ساتھ ملاقات سے ایران اور امریکہ کے درمیان مئی میں تاریخی ملاقات کے بعد مزید بات چیت کے لیے راہ ہموار ہو گی۔ امریکہ کے ہاتھوں ان ایرانیوں کی گرفتاری سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ اس واقعے سے امریکہ میں وائٹ ہاؤس اور وزارت خارجہ کے درمیان بھی اختلاف رائے پیدا ہوا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اطلاعات کے مطابق ان افراد کی رہائی کے حق میں بات کی تھی کیونکہ ان کے خیال میں ان لوگوں کو مزید قید میں رکھنے سے فائدہ حاصل نہیں ہو رہا تھا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران عراق میں شیعہ مزاحمت کاروں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’ایرانی سفارکار پر تشدد نہیں کیا‘08 April, 2007 | آس پاس ’ایرانی سفارت کار زخمی تھے‘11 April, 2007 | آس پاس ایرانی مذاکرات کار موسویان گرفتار 05 May, 2007 | آس پاس برطانوی فوجیوں کے بدلے ایرانی: ’نہیں‘30 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||