BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 June, 2007, 04:04 GMT 09:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرکوزی کی ’بھاری اکثریت سے جیت‘
سوشلسٹ پارٹی نے صدارتی انتخابات کے بعد پارلیمانی انتخابات میں بھی بڑی مایوس کارکردگی دکھائی: مبصر
فرانس میں پہلے مرحلے کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے تخمینوں کے مطابق صدر نکولس سرکوزی کو بھاری اکثریت سے فتح کی طرف گامزن ہیں۔

اگرچہ بہت سی نشستوں پر اگلے ہفتے دوسرے راونڈ کے انتخابات کے بعد ہی فیصلہ ہو سکے گا، لیکن ووٹوں پر رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ صدر سرکوزی کی جماعت کو پانچ سو ستتر میں سے تین سو تراسی نشستیں مل سکتی ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق صدر سرکوزی کو اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے اپنی اقتصادی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

البتہ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم یعنی اکسٹھ فیصد رہی ہے۔ صرف ایک ماہ پہلے صدراتی انتخابات میں یہی شرح چوراسی فیصد تھی۔

اڑتالیس سالہ ووٹر مائیکل پیریز نے جن کا تعلق فرانس سے ہے رائٹرز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا بہت سے لوگ ان پارلیمانی انتخابات میں دلچسپی لیتے نظر نہیں آ رہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ نکولس سرکوزی نے جیت تو جانا ہی ہے۔

پولنگ کے جائزے لگانے والوں نے کہا ہے کہ صدر سرکوزی کی جماعت کی نشستوں کی تعداد تین سو تراسی اور پانچ سو ایک کے درمیان ہوگی۔

سرکوزی کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے: ’آج آپ نے صدر کو صدارتی اکثریت کو ایک خوبصورت برتری دی ہے۔ لیکن اصل فیصلہ اگلے اتوار کو ہوگا۔ اسی لیے پورے فرانس کو ووٹ ڈالنے جانا ہوگا۔‘

سوشلسٹ پارٹی نے جس کے امیدوار کو شکست دے کر نکولس سرکوزی صدر بنے ہیں، ایک مرتبہ پھر پارلیمانی انتخابات میں بڑی مایوس کارکردگی دکھائی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد