شمالی۔جنوبی کوریا میں ٹرین سروس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تقریباً نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی بار شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ٹرین سروس شروع ہوئی ہے۔ شمالی کوریا نے جمعرات کو جنوبی کوریا سے آنے والی ٹرین کے تاریخی ٹرائل کا خیرمقدم کیا۔ ٹرین سروس کو ان ممالک کے متنازعہ تعلقات کو بہتر بنانے کی طرف ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ 1950تا 1953 میں ہونے والی کوریائی جنگ میں دونوں ممالک کے درمیان ٹرینوں کے لنک ختم ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب شمال اور جنوبی کوریا کے درمیان ٹرین سروس کی شروعات ہوئی ہے۔ یہ ٹرین دونوں ملکوں کو جوڑنے والے اس چار کلومیٹر حصہ سے گزری ہے جسے نو مینز لینڈ کے طور پر منظور کیا گیا تھا۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سرکاری اہلکار جن میں شمالی کوریا کی کابینہ کے سیئنر کونسلر اور شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان وزراء کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے سربراہ کوان لو ینگ اور جنوبی کوریا کے یونیفیکیشن کے وزیر لی جیے جؤنگ نے اس ٹرین میں جنوبی کوریا کے منسان سٹیشن سے کیسونگ سٹیشن تک کا سفر مکمل کیا۔ شمال کوریا کی طرف ریل سروس کی مخالفت کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان منسان سٹیشن پر جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ مظاہرین نے جب ٹرین کے لیے منعقد کیے گئے سرکاری جشن میں شرکت کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روکا۔ ریل کے اس سفر کی شروعات سے قبل کؤان ہوینگ نے کہا تھا کہ دونوں کوریائی ممالک کو اب اپنے تعلقات کو پٹری سے اترنے کا موقع نہیں دینا چاہیے اور دوبارہ ایک ہونے کی جانب قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ کؤان نے امریکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک بار پھر دوہرایا کہ بیرونی طاقتیں دونوں ملکوں کو ایک ہونے میں روکاٹ پیدا کر رہی ہیں۔ | اسی بارے میں ’معاہدے سے پھرے تو پابندیاں‘13 February, 2007 | آس پاس جوہری مذاکرات جمود کا شکار11 February, 2007 | آس پاس ’اچھا آغاز مگر بات ختم نہیں ہوئی‘13 February, 2007 | آس پاس شمالی کوریا: نیوکلیئر پروگرام چھوڑنے پر راضی13 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||