اولمرت کے استعفے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم ایہود اولمرت کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مظاہرہ جمعرات کو تل ابیب کے مرکز میں واقع ربین سکوئیر میں ہوا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں ایک لاکھ افراد موجود تھے۔ منتظمین میں فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل یوزی دایان بھی شامل ہیں، انہوں نے بتایا کہ اس مظاہرے میں کسی سیاستدان کے شریک ہونے پر پابندی نہیں تھی لیکن ان کو سٹیج پر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ ملک میں وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ لبنان جنگ میں ان کی حکمت عملی پر وینوگراڈ رپورٹ کے بعد عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ریٹائرڈ جج ایلائاہو وینوگراڈ نے چھ ماہ کی تفتیش کے بعد تیار کی تھی اور اس میں چونتیس روزہ جنگ کے دوران وزیر اعظم کے رویے اور فیصلوں پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ بدھ کو ایہود اولمرت کی وزیر خارجہ نے بھی وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم مسٹر اولمرت کا کہنا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے بلکہ وہ اقتدار میں رہتے ہوئےوینوگراڈ انکوائری کمیشن کے سفارشات کو عمل میں لائیں گے۔ | اسی بارے میں اسرائیلی کابینہ کے ہنگامی مذاکرات 02 May, 2007 | آس پاس اسرائیلی وزیراعظم استعفی دیں03 May, 2007 | آس پاس لبنان پرحملے کا منصوبہ تھا: اولمرت09 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||