’میں نے ڈرائیور کی گردن کٹتے دیکھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کی قید سے رہا ہونے والے اطالوی صحافی ڈینیل ماستروگیاکومو نے کہا ہے کہ ان کو اغوا کرنے والوں نے ان کے سامنے ان کےافغان ڈرائیور کا سر قلم کیا تھا۔ ڈینیل ماستروگیاکومو ’لا رپبلیکلا‘ نامی روزنامے سے وابسطہ ہیں۔ انہیں دو ہفتے قبل ہلمند صوبے سے اغوا کیا گیا تھا۔ وہ طالبان کے اعلیٰ رہنماؤں کے انٹرویو کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ماستروگیاکومو اس وقت ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ ان کے ڈرائیور کی لاش ابھی حوالے نہیں کی گئی۔ ان کے مترجم کو بھی پیر کو رہا کر دیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے ڈرائیور کے چار بچے تھے۔ ماستروگیاکومو نے بتایا کہ انہیں زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیااور اس سارے عرصےمیں انہیں پندرہ بار ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے ڈرائیور کا سر کاٹا گیا تو انہیں لگا کہ اب ان کی باری ہے۔ ’وہ خوفناک منظر تھا‘۔ اٹلی کے وزیر اعظم نے اطالوی صحافی کی رہائی ’سیدھا سادہ‘ مسئلہ نہیں تھا اور اس کے بارے میں مزید تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔ اطالوی حکام نے بتایا کہ رہا ہونے والے صحافی منگل کو کابل پہنچیں گے جہاں سے انہیں اٹلی لے جایا جائے گا۔ ایک طالبان رہنما ملا دادللہ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے بتایا کہ اطالوی صحافی کوطالبان کے پانچ اعلیٰ رہنماؤں کی افغان حکومت کی قید سے رہائی کے بدلے چھوڑا گیا ہے جن میں ان کے اپنے بھائی بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں امریکی کی’گردن زدنی‘ کی وڈیو11 May, 2004 | آس پاس ’گردن زنی الزرقوی نے ہی کی‘13 May, 2004 | آس پاس دجلہ اور حدیثہ سے 69 لاشیں برآمد 20 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||