BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 05:48 GMT 10:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں نے ڈرائیور کی گردن کٹتے دیکھی‘
ڈینیل ماستروگیاکومو
میں سمجھا میرے ڈرائیور کے بعد میری گردن بھی کاٹ دی جائے گی: ڈینیل ماستروگیاکومو
طالبان کی قید سے رہا ہونے والے اطالوی صحافی ڈینیل ماستروگیاکومو نے کہا ہے کہ ان کو اغوا کرنے والوں نے ان کے سامنے ان کےافغان ڈرائیور کا سر قلم کیا تھا۔

ڈینیل ماستروگیاکومو ’لا رپبلیکلا‘ نامی روزنامے سے وابسطہ ہیں۔ انہیں دو ہفتے قبل ہلمند صوبے سے اغوا کیا گیا تھا۔ وہ طالبان کے اعلیٰ رہنماؤں کے انٹرویو کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ماستروگیاکومو اس وقت ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ ان کے ڈرائیور کی لاش ابھی حوالے نہیں کی گئی۔ ان کے مترجم کو بھی پیر کو رہا کر دیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے ڈرائیور کے چار بچے تھے۔

ماستروگیاکومو نے بتایا کہ انہیں زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیااور اس سارے عرصےمیں انہیں پندرہ بار ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب ان کے ڈرائیور کا سر کاٹا گیا تو انہیں لگا کہ اب ان کی باری ہے۔ ’وہ خوفناک منظر تھا‘۔

اٹلی کے وزیر اعظم نے اطالوی صحافی کی رہائی ’سیدھا سادہ‘ مسئلہ نہیں تھا اور اس کے بارے میں مزید تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔

اطالوی حکام نے بتایا کہ رہا ہونے والے صحافی منگل کو کابل پہنچیں گے جہاں سے انہیں اٹلی لے جایا جائے گا۔

ایک طالبان رہنما ملا دادللہ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے بتایا کہ اطالوی صحافی کوطالبان کے پانچ اعلیٰ رہنماؤں کی افغان حکومت کی قید سے رہائی کے بدلے چھوڑا گیا ہے جن میں ان کے اپنے بھائی بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد