BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 February, 2007, 00:40 GMT 05:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نسل کشی: سربیا بری،مسلمان مایوس
بوسنیا جنگ کی یادگار
بوسنیائی مسلمانوں نے عدالت کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا
بوسنیا کے مسلمانوں نے عالمی عدالتِ انصاف کے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ نوے کی دہائی میں بوسنیائی جنگ کے دوران سربیا نسل کشی کا براہِ راست ذمہ دار نہیں ہے۔

تاہم ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قائم عالمی انصاف کی عدالت نے کہا کہ سربیا نے1995 میں سربنیتزا میں آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے میں کردار ادا نہ کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

بوسنیا کے مسلمان رہنما حارث سلاجک نے فیصلے کو نامکمل کہا اور اس بات پر زور دیا کہ سربیا ابھی بھی مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے میں کردار ادا نہ کرنے کا مجرم ہے اور اسے اب اس کی ذمہ داری تسلیم کر لینا چاہیئے۔

سربیا کے مغرب نواز صدر بورس تاجک نے عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ سربیا کو اقوامِ متحدہ کی جنگی جرائم کی عدالت کے ساتھ تعاون کرنا ضروری تھا، ’بصورتِ دیگر اسے اس کے ڈرامائی اقتصادی اور سیاسی نتائج بھگتنے پڑتے‘۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں بہت سے قوم پرست نسل کشی سے سراسر انکار کرتے ہیں۔

سربیا اور بوسنیا کے مندوبین ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہوئے
سربیا اور بوسنیا کے مندوبین ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہوئے

عالمی عدالتِ انصاف نے اپنے فیصلے میں 1995 میں سربنیتزا میں آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام کو’جینو سائڈ‘ یعنی نسل کشی قرار دیا۔ اس سے قبل جنگی جرائم کی عدالت بھی سربنیتزا میں مسلم ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دے چکی ہے۔

عالمی عدالتِ انصاف کی سربراہ جج روزلین ہگنز کا کہنا تھا ’عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سربنیتزا میں نسل کشی کے لیے سربیا کو براہِ راست موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا‘۔

انیس سو پچانوے کے قتل عام میں ہلاک ہونے والے آٹھ ہزار مسلمانوں کے رشتہ داروں نے فیصلے کے وقت عدالت کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ یہ افراد ’سربیا قصور وار ہے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

یہ کسی بھی ریاست کےخلاف قتل عام کے الزامات کے تحت قائم مقدمے کا پہلا فیصلہ ہے۔ اگر بوسنیا کو اس مقدمے میں کامیابی حاصل ہو جاتی تو یہ پہلا موقع ہوتا کہ کسی شخص یا گروہ کے بجائے ریاست کو قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا اور بوسنیا سربیا سے اربوں ڈالر بطور زر تلافی طلب کر سکتا تھا۔

سابق یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد انیس سو بانوے سے انیس سو پچانوے تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس مقدمے کے حوالے سے بوسنیا کا کہنا تھا کہ بلغراد نے مسلح سربیائی باشندوں کو نسلی منافرت پر اکسایا اور اس کا ہلاکتوں میں فعال کردار تھا جبکہ بلغراد کا موقف ہے کہ بوسنیا کی لڑائی مختلف نسلی گروہوں کے درمیان ایک داخلی جنگ تھی اور اس کا قتل عام میں کوئی کردار نہیں تھا۔

بوسنیا کی جنگ کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے

بوسنیا ہرزگوینا بنام سربیا مانٹنینیگرو مقدمہ ایک سال قبل شروع ہوا تھا اور مئی دو ہزار چھ میں ختم ہونے والی سماعت کے بعد سےججوں کا ایک پینل فیصلے پر غور کر رہا تھا۔ اس فیصلے کو تسلیم کرنا فریقین کے لیے لازمی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سربیا پہلے ہی سے سابق یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے سے متعلق چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ سربیا کو یورپی یونین کی رکنیت اس لیے نہیں مل رہی ہے کہ وہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کو عدالت کے سامنے پیش کر نے میں ناکام رہا ہے۔

سربیا کو اقوام متحدہ کے ساتھ کوسوو کے مستقبل کے بارے میں بھی حتمی بات چیت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کوسوو سربیا کی مخالفت کے باوجود ایک آزاد ریاست بننے کے قریب ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد