’سربیا براہ راست ذمہ دار نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف کا کہنا ہے کہ سربیا نوے کی دہائی میں بوسنیائی جنگ کے دوران نسل کشی کا براہِ راست ذمہ دار نہیں ہے۔ تاہم عدالت کا کہنا ہے کہ سربیا نے1995 میں سربنیتزا میں آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے میں کردار ادا نہ کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف نے اپنے فیصلے میں 1995 میں سربنیتزا میں آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام کو’جینو سائڈ‘ یعنی نسل کشی قرار دیا۔ اس سے قبل جنگی جرائم کی عدالت بھی سربنیتزا میں مسلم ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دے چکی ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف کی سربراہ جج روزلین ہگنز کا کہنا تھا ’عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سربنیتزا میں نسل کشی کے لیے سربیا کو براہِ راست موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا‘۔ انیس سو پچانوے کے قتل عام میں ہلاک ہونے والے آٹھ ہزار مسلمانوں کے رشتہ داروں نے فیصلے کے وقت عدالت کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ یہ افراد ’سربیا قصوروار ہے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ کسی بھی ریاست کےخلاف قتل عام کے الزامات کے تحت قائم مقدمے کا پہلا فیصلہ ہے۔ اگر بوسنیا کو اس مقدمے میں کامیابی حاصل ہو جاتی تو یہ پہلا موقع ہوتا کہ کسی شخص یا گروہ کے بجائے ریاست کو قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا اور بوسنیا سربیا سے اربوں ڈالر بطور زر تلافی طلب کر سکتا تھا۔ سابق یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد انیس سو بانوے سے انیس سو پچانوے تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس مقدمے کے حوالے سے بوسنیا کا کہنا تھا کہ بلغراد نے مسلح سربیائی باشندوں کو نسلی منافرت پر اکسایا اور اس کا ہلاکتوں میں فعال کردار تھا جبکہ بلغراد کا موقف ہے کہ بوسنیا کی لڑائی مختلف نسلی گروہوں کے درمیان ایک داخلی جنگ تھی اور اس کا قتل عام میں کوئی کردار نہیں تھا۔
بوسنیا ہرزگوینا بنام سربیا مانٹنینیگرو مقدمہ ایک سال قبل شروع ہوا تھا اور مئی دو ہزار چھ میں ختم ہونے والی سماعت کے بعد سےججوں کا ایک پینل فیصلے پر غور کر رہا تھا۔ اس فیصلے کو تسلیم کرنا فریقین کے لیے لازمی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سربیا پہلے ہی سے سابق یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے سے متعلق چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ سربیا کو یورپی یونین کی رکنیت اس لیے نہیں مل رہی ہے کہ وہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کو عدالت کے سامنے پیش کر نے میں ناکام رہا ہے۔ سربیا کو اقوام متحدہ کے ساتھ کوسوو کے مستقبل کے بارے میں بھی حتمی بات چیت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کوسوو سربیا کی مخالفت کے باوجود ایک آزاد ریاست بننے کے قریب ہے۔ | اسی بارے میں سریبرنتسا: پندرہ سال قید کی سزا30 December, 2005 | آس پاس ملاسووِچ کیسے مرے، تحقیات شروع12 March, 2006 | آس پاس ملاشووچ کی تدفین سربیا میں ہوگی15 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||