ایران کی امریکہ پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے امریکہ پر ان پانچ سفارتکاروں کے اغوا کا الزام لگایا ہے جنہیں شمالی عراق کے شہر اربیل سے ’گرفتار‘ کیا گیا تھا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ لوگ سفارتکار نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے تھا اور عراق کے شیعہ جنگجوؤں کو مسلح کر رہے تھے۔ عراق میں ایران کےسفیر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ گرفتاریاں عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور انہوں نے اسے عراقیوں کی توہین قرار دیا تھا۔ حسن کاظمی نے اس بات کی تردید کی کہ ایران عراق میں ہونے والے تشدد میں ملوث ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ایرانی سفیر نے کہا کہ پکڑے جانے والے لوگ سفارتکار تھے اور قانونی ذمہ داریاں پوری کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کی گرفتاری ان عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جو سفارتکاروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران عراق کو غیر مستحکم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایسی صورتحال میں ایران کو پناہ گزینوں کے سیلاب کا سامنا کرنے پڑے گا اور بد امنی بھی پھیل سکتی ہے۔ مذکورہ پانچ افراد کو اربیل میں ایران کے رابطہ دفتر سے ایک اور شخص کے ساتھ پکڑا گیا تھا جسے اب چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جہاں سے ان لوگوں کو پکڑا گیا وہ عمارت سفارتخانہ تھی لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ نہ ہی اس عمارت کو اور نہ ہی پکڑے جانے والے افراد کو سفارتی تحفظ حاصل ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ سے ایرانیوں کی رہائی کا مطالبہ14 January, 2007 | آس پاس صدر احمدی نژاد پر دباؤ میں اضافہ17 January, 2007 | آس پاس ’ایران، شام کے اندر گھسنےکا اردہ نہیں‘13 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||