غرب اردن: رکاوٹیں ہٹانے کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیر دفاع امیر پریٹز نے غرب اردن کے علاقے میں سڑکوں پر کھڑی کی گئی رکاوٹیں فلسطینیوں کی سہولت کے لیے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے پیر کو خارجہ اور دفاعی امور کی پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ چار سو میں سے انسٹھ مقامات پر لگی رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی۔ اس حوالے سے لائحہ عمل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں چوبیس اور پھر پینتیس مقامات پر سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں گی۔ تاہم امیر پریٹز نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا کب ہو گا۔ ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد اسرائیل میں کام کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ غرب اردن پر قائم کی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے روزگار کے متلاشی فلسطینی اسرائیل نہیں جا پاتے۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ عیدالضحیٰ کے موقع پر کچھ فلسطینی قیدیوں کو رہا بھی کیا جائے گا۔ امیر پریٹز کا کہنا تھا ’فلسطینیوں کا میعار زندگی بلند کرنا اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے‘۔
فلسطین میں جاری سیاسی کشمکش میں اسرائیل نے حماس کے مقابلے میں صدر محمود عباس کی حمایت کرنے کا عہد کیا ہے۔ اتوار کو اسرائیلی کابینہ نے فلسطینی اتھارٹی سے حاصل کردہ ٹیکس میں سے ضبط کیے گئے چھ سو ملین ڈالر میں سے ایک سو ملین ڈالر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرت اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا ہے۔ اسرائیل نے فلسطین میں حماس کی حکومت بننے کے بعد سے امن مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کیا ہوا تھا۔ حماس کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے مسئلے پر اختلافات کے بعد پچھلے ہفتے صدر محمود عباس نے فلسطین میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ | اسی بارے میں فلسطینی فنڈز بحال کرنے کا اعلان24 December, 2006 | آس پاس یروشلم میں عباس اولمرت ملاقات23 December, 2006 | آس پاس ’ھنیہ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی‘14 December, 2006 | آس پاس اسرائیل نے ھنیہ کا راستہ روک دیا14 December, 2006 | آس پاس قیام امن کے لیے اولمرت کا منصوبہ27 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||