BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 December, 2006, 01:20 GMT 06:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان بحران کے لیے عرب سفارتکاری
لاکھوں مظاہرین بیروت کے مرکز اور سرکاری دفاتر کے نزدیک سفید خمیے لگا کر بیٹھے ہیں
لبنان کے سیاسی بحران کے حل کے لیے عرب اقوام نے نئے سرے سے سفارتی کوششیں شروع کردی ہیں۔

عرب لیگ کے سربراہ امر موسٰی اتوار کو یعنی آج بیروت کا دورہ کررہے ہیں تاکہ حزب مخالف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کاری کی پیشکش کریں۔

دیگر عرب ممالک بشمول متحدہ عرب امارات، بحرین اور تیونس کے نمائندے بھی جلد ہی بیروت پہنچیں گے تاکہ اس معاملے میں مداخلت کرسکیں۔

لبنان کے شام مخالف وزیر اعظم فواد سنیورا کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کے لیے حزب اللہ کی کال پر بیروت میں جمعہ کو شروع ہونے والا لاکھوں لبنانیوں کا احتجاج سنیچر کی رات کو بھی جاری رہا۔

لاکھوں مظاہرین بیروت کی سڑکوں پر موجود ہیں اور وہ بیروت کے مرکز اور سرکاری دفاتر کے نزدیک خمیے لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ مظاہرین میں اکثریت کا تعلق شیعہ تنظیم حزب اللہ سے ہے۔

مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ فواد سنیورا مستعفی ہو جائیں۔ ادھر فواد سنیورا نے کہا ہے کہ وہ پارلیمان کی حمایت سے اقتدار میں ہیں اور جب تک ان کو پارلیمان کی حمایت حاصل رہے گی وہ اقتدار سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ شام اور ایران لبنان کی جمہوری حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹام کیسی نے کہا ہے کہ ایران اور شام کی حکومتیں مظاہرین کو اکسا رہی ہیں۔

حزب اللہ کے رہنمانے مظاہرین سے کہا تھا کہ پرامن احتجاج کے دوران حزب اللہ کا پیلے رنگ کا پرچم، جس پر کلاشنکوف پکڑے ایک ہاتھ بنا ہوا ہے، نہ لہرائیں۔

مظاہرین نے مرکزی بیروت میں خیمے نصب کر لیے ہیں۔

حزب اللہ کے رہنما اور فوج کے سابق جنرل مشل آئیؤن مظاہرے کی قیادت کررہے تھے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ موجودہ حکومت کو ہٹا کر اس کی جگہ اتفاق رائے سے حکومت کو چنا جائے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم فواد سنیورا کہ امریکہ کی ہدایات پر چلتے ہیں اور انہوں نے اس سال گرمیوں میں اسرائیل کے ساتھ جنگ میں حزب اللہ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔

حزب اللہ لبنان کی سب سے اہم عسکری طاقت ہے جس کی حمایت کا بہت بڑا منبع وہ شیعہ آبادی ہے جو اس علاقے میں رہتی ہے جہاں سے اسے نکلنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
لبنان کی تباہی کی ویڈیو
20 July, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد