لندن: مسلم افسر کے انکار پر تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں پولیس کے سربراہ نے مسلمان افسر کے اسرائیل کے سفارت خانے کی پہرہ داری پر ’اعتراض‘ کی وجوہات جاننے کے لیئے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ پولیس چیف سر این بلیئر نے فوری طور پر صورت حال کے جائزے اور معاملے کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ پولیس کے کانسٹیبل الیگزینڈر عمر بشا ایک برطانوی شہری ہیں تاہم ان کی بیوی کا تعلق لبنان سے ہے اور عمر بشا کا خاندان لبنان میں موجود ہے۔ جولائی میں لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی کے دوران عمر بشا نے اسرائیل کے سفارت خانے کے باہر ڈیوٹی کرنے سے اعتراض کیا تھا۔ ان کے اس اعتراض نے برطانیہ میں ایک تنازعے کو جنم دیا ہے کیونکہ پولیس کو ایسوسی ایشن آف مسلم پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کو بطور نجی معاملے کے لینا چاہیے تھا تاہم اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پولیس اہلکار انفرادی طور پر اپنی ڈیوٹیاں خود منتخب نہیں کر سکتے۔ لندن میں پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہوا؟ اس معاملے میں کی جانے والی انکوائری کا دار و مدار اسی بات پر ہوگا کہ آیا اسرائیلی پالیسی کی وجہ سے ہی عمر نے سفارت خانے کی پہرہ داری سے انکار تھا یا اسرائیل کے سفارت کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کی صورت میں انہیں لبنان میں اپنے خاندان والوں کے سلامتی کا خوف تھا۔ | اسی بارے میں لندن چھاپے کی منطق پر سوالات09 June, 2006 | آس پاس لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟12 August, 2006 | آس پاس لندن: دہشت گردی کے ملزمان کی پیشی22 August, 2006 | آس پاس لندن میں مظاہرہ، ٹونی بلیئر پر تنقید05 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||