BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 July, 2006, 00:31 GMT 05:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وائٹ ہاؤس: بن لادن کا بیان مسترد
دو دن میں اسامہ کا دوسرا پیغام
امریکہ نے انٹرنیٹ پر جاری کیئے گئے بظاہر القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے بیان کو رد کردیا ہے جس میں عراق کی شیعہ آبادی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر سنیوں پر حملے جاری رہے تو ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ اگر یہ بیان اصلی ہے تو اس سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ ’انسانیت کے خلاف جنگ‘ اور ’اپنے گھناؤنے عزائم‘ کا جواز پیش کرنے کے لیئے میڈیا کا استحصال کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ اس اقدام کا مقصد عراق اور اسلامی دنیا میں تفرقہ ڈالنا ہے۔

دو دن کے وقفے سے جاری ہونے والے اسامہ کے اس دوسرے پیغام میں عراق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں سنی مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ اس پیغام میں خبردار کیا گیا ہے کہ شیعہ علاقے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

ساتھ ہی اپنے اس اپنے بیان میں اسامہ نے تمام ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صومالیہ میں فوجیں نہ بھیجیں جہاں ان کے مطابق ایک اسلامی ریاست قائم کی جارہی ہے۔

صومالیہ کے لوگوں سے المحاكم الاسلاميہ کی حمایت کرنے کو کہا گیا ہے اور صومالیہ کی عبوری حکومت کے صدر عبداللہ یوسف کی مذمت کی ہے۔

اسامہ بن لادن نے اس پیغام میں عراق میں القاعدہ کے نئے رہنما ابو حمزہ المہاجر کی نامزدگی کی تائید کی ہے۔

اس انیس منٹ طویل پیغام کے ساتھ اسامہ بن لادن کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہے تاہم آزاد ذرائع سے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ کیا یہ واقعی اسامہ بن لادن کی آواز ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد