وائٹ ہاؤس: بن لادن کا بیان مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے انٹرنیٹ پر جاری کیئے گئے بظاہر القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے بیان کو رد کردیا ہے جس میں عراق کی شیعہ آبادی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر سنیوں پر حملے جاری رہے تو ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ اگر یہ بیان اصلی ہے تو اس سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ ’انسانیت کے خلاف جنگ‘ اور ’اپنے گھناؤنے عزائم‘ کا جواز پیش کرنے کے لیئے میڈیا کا استحصال کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ اس اقدام کا مقصد عراق اور اسلامی دنیا میں تفرقہ ڈالنا ہے۔ دو دن کے وقفے سے جاری ہونے والے اسامہ کے اس دوسرے پیغام میں عراق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں سنی مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ اس پیغام میں خبردار کیا گیا ہے کہ شیعہ علاقے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ساتھ ہی اپنے اس اپنے بیان میں اسامہ نے تمام ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صومالیہ میں فوجیں نہ بھیجیں جہاں ان کے مطابق ایک اسلامی ریاست قائم کی جارہی ہے۔ صومالیہ کے لوگوں سے المحاكم الاسلاميہ کی حمایت کرنے کو کہا گیا ہے اور صومالیہ کی عبوری حکومت کے صدر عبداللہ یوسف کی مذمت کی ہے۔ اسامہ بن لادن نے اس پیغام میں عراق میں القاعدہ کے نئے رہنما ابو حمزہ المہاجر کی نامزدگی کی تائید کی ہے۔ اس انیس منٹ طویل پیغام کے ساتھ اسامہ بن لادن کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہے تاہم آزاد ذرائع سے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ کیا یہ واقعی اسامہ بن لادن کی آواز ہے۔ | اسی بارے میں اسامہ بن لادن کا نیا وڈیو پیغام30 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو کے مقدمات مسترد29 June, 2006 | آس پاس موساوی ملوث نہ تھے: اسامہ ٹیپ24 May, 2006 | آس پاس ’الزرقاوی کی موت کا بدلہ لیں گے‘11 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||