انتہائی اقدام: اسرائیل کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیر اعظم نے فلسطینی شدت پسندوں کو زیر حراست فوجی کی رہائی کے لیئے ’انتہائی اقدام‘ کی دھمکی دی ہے۔ وزیر اعظم اولمرت نے کہا ہے کہ ’ہم گیلاد کو اس کے خاندان کے پاس واپس لانے کے لیئے کسی انتہائی اقدام سے گریز نہیں کریں گے‘۔ اسرائیل کے وزیر برائے پبلک سکیورٹی اوی ڈِچر نے اسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں موجود فلسطینی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شام نے اسرائیل کی بات کو نظر انداز کرنے کا راستہ اپنایا ہے اس لیئے ’یہ بات اسرائیل کو ان قاتلوں پر حملہ کرنے کا پورا اختیار دیتی ہے‘۔ اس کے فوراً بعد عینی شاہدین نے غزہ میں شدت پسندوں کے تربیتی کیمپ پر ایک فضائی حملے کی اطلاع دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تربیتی کیمپ پر میزائیل بھی داغا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ پچھلے سال غزہ کے جنوبی حصے سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے بعد منگل کی رات کو پہلی دفعہ ٹینک اس علاقے میں داخل ہو گئے۔ ابھی تک کسی لڑائی کی اطلاعات نہیں ملی ہیں تاہم اس اقدام کو فلسطینی گروپ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائی اتوار کے روز اغواء کیئے جانے والے اسرائیلی فوجی کارپورل گیلاد شالت کی رہائی کے لیئے شروع کی ہے۔ غزہ میں فوجی کارروائی سے قبل اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے غزہ میں تین پلوں اور ایک بڑے بجلی گھر کو تباہ کردیا۔ اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ ان پلوں کو اس لیئے تباہ کیا گیا ہے تاکہ اغواء شدہ اسرائیلی فوجی کو علاقے سے باہر نہ منتقل کیا جا سکے۔ اسرائیلی فوج نے پیش قدمی کے دوران غزہ پر شیلنگ اور بمباری جاری رکھی اور اس کی آڑ میں ہی اسرائیلی فوج نے رفا کے باہر کھیتوں اور ایک پرانے ہوائی اڈے کے قریب مورچہ بندی کی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فوج نے اس علاقے میں آبزرویشن پوسٹ یا چوکیاں قائم کی ہیں۔ تاہم یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ اسرائیل اس فوجی کارروائی میں کتنے فوجی استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی کا واحد مقصد اسرائیلی فوجی کی رہائی ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا کہ ’جیسے ہی ہم اس مقصد میں کامیاب ہو گئے ہم غزہ سے نکل جائیں گے۔‘ غزہ میں تازہ فوجی کارروائی علاقے سے اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے انخلاء کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں کی جا رہی ہے۔ غزہ پر اسرائیلی فوج نے انیس سو ستاسٹھ میں قبضہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک دھماکے میں دو فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں لیکن فلسطینی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ یہ ایک حادثہ لگتا ہے۔ امریکہ اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ فوجی کی بازیابی کے لیئے سفارتی ذرائع پر زیادہ توجہ دے۔ اسرائیلی فوج کی بازیابی کے لیئے کی جانے والی سفارتی کوششوں میں فرانس اور مصر پیش پیش ہیں۔
بی بی سی کے نمائندہ نک تھروپ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی سفارتی کوششوں کو تقویت دینے یا دباؤ بڑھانے کے لیئے کی گئی ہواور اس کا مقصد سفارتی کوششوں کی جگہ صرف طاقت کا استعمال نہ ہو۔ اسرائیلی فوجی کو اغواء کرنے کے دعویدار فلسطینی گروپ پاپولرریزسٹنٹ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے اور اگر غزہ میں اسرائیلی فوجی حملے بند نہ ہوئے تو اغواء شدہ فوجی کو ہلاک کردیا جائے گا۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اغواء شدہ فوجی کو ایک محفوظ جگہ پر رکھا جا رہا ہے جہاں پہنچنا اسرائیلی فوج کے لیئے ممکن نہیں ہو گا۔ گروپ کے مطابق اغواء شدہ اسرائیلی فوجی کو اس وقت تک رہا نہیں کیا جائے گا جب تک اس کے مطالبات کو تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔ اسرائیل پہلے ہی اپنی جیلوں میں بند فلسطینی عورتوں اور بچوں کی رہائی سے متعلق گروپ کے مطالبے کو مسترد کر چکا ہے۔ اسرائیلی فوجی کارروائی کے پیش نظر غزہ کے علاقے میں رہائش پذیر فلسطینیوں نے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع کر دیا ہے۔ ایک مقامی محمد ابو ذکر نے کہا کہ انہوں نے جب علاقے میں ٹینکوں اور فوجیوں کو جمع ہوتے دیکھا تو انہوں نے علاقہ چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ غزہ کے مکین تمام رات اسرائیلی طیاروں کی آوازیں سن کر جاگتے رہے۔ اگرچہ فلسطینیوں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی تاہم فلسطینی راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے اور چھاپہ مار حملوں کی پوزیشنیں سنبھالنے میں مصروف رہے۔ فلسطینی شدت پسندوں نے اسرائیلی فوج کے حملے کے پیش نظر علاقے میں روکاوٹیں کھڑی کرنا اور مورچہ بندی کرنا شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب حماس اور الفتح ایک ایسے سمجھوتے پر متفق ہوگئے ہیں جس میں غزہ اور مقبوضہ غرب اردن میں ایک فلسطینی ریاست کے خطوط واضح کیئے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’ہر قیمت پر فوجی آزاد کرائیں گے‘26 June, 2006 | آس پاس عورتوں، بچوں کی رہائی کا مطالبہ27 June, 2006 | آس پاس اسرائیلی کا اغوا، فلسطین میں بحران27 June, 2006 | آس پاس حماس نے ’اسرائیل کو تسلیم کر لیا‘27 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||