اسرائیلی فوجی کارروائی کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز اغواء کیئے جانے والے فوجی کی رہائی کے لیے اس نے غزہ کی پٹی میں ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کردی ہے۔ اس مقصد کے لیے گزشتہ روز سے ہی اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں غزہ کی سرحد پر اکٹھا ہورہی تھیں جبکہ آج اسرائیل نے غزہ میں دو پلوں اور ایک بڑے بجلی گھر کو بھی تباہ کردیا۔ اسرائیلی فوجی کو اغواء کرنے کے دعویدار فلسطینی گروپ پاپولرریزسٹنٹ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے اور اگر غزہ میں اسرائیلی فوجی حملے بند نہ ہوئے تو اغواء شدہ فوجی کو ہلاک کردیا جائے گا۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اغواء شدہ فوجی کو ایک محفوظ جگہ پر رکھا جا رہا ہے جہاں پہنچنا اسرائیلی فوج کے لیئے ممکن نہیں ہو گا۔ گروپ کے مطابق اغواء شدہ اسرائیلی فوجی کو اس وقت تک رہا نہیں کیا جائے گا جب تک اس کے مطالبات کو تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔ اسرائیل پہلے ہی اپنی جیلوں میں بند فلسطینی عورتوں اور بچوں کی رہائی سے متعلق گروپ کے مطالبے کو مسترد کر چکا ہے۔ اسرائیل فوج کا کہنا کہ فوجی کی رہائی کے ساتھ ہی اس کا مقصد حاصل ہوجائے گا اور اسرائیلی فوج غزہ میں قیام نہیں کرے گی۔ دوسری جانب حماس اور الفتح ایک ایسے سمجھوتے پر متفق ہوگئے ہیں جس میں غزہ اور مقبوضہ غرب اردن میں ایک فلسطینی ریاست کے خطوط واضح کیئے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’ہر قیمت پر فوجی آزاد کرائیں گے‘26 June, 2006 | آس پاس عورتوں، بچوں کی رہائی کا مطالبہ27 June, 2006 | آس پاس اسرائیلی کا اغوا، فلسطین میں بحران27 June, 2006 | آس پاس حماس نے ’اسرائیل کو تسلیم کر لیا‘27 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||