BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ کے ’حملوں‘ سے متعلق دعوے
نیویارک سب وے نظام پر حملے الظواہری کے حکم پر ملتوی کیئے گئے
ایک کتاب کے مطابق امریکہ میں خفیہ اداروں کے ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ دو ہزار تین کے اوائل میں القاعدہ کے شدت پسند پینتالیس دن کے اندر اندر نیویارک کے سب وے کے نظام میں خطرناک سائینائیڈ سے حملہ کرنے والے تھے۔

تاہم اسامہ بن دلان کے نائب ایم الظواہری نے ان حملوں کو ملتوی کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ دعوے ٹائم میگزین نے ایک نئی کتاب کے توسط سے شائع کیئے ہیں جس میں خفیہ اداروں کے حوالے سے مختلف طرح کے انکشاف کیئے گئے ہیں۔

ٹائم میگزین نے کہا ہے کہ امریکی اہلکاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں القاعدہ کی طرف سے ان حملوں کے امکان کا علم تھا اور فروری دو ہزار تین میں نیویارک کے زیرِ زمین ٹرین کے نظام کی بھرپور نگرانی کی جا رہی تھی۔

’دی ون پرسنٹ ڈاکٹرین‘ نامی اس کتاب کے مصنف رون سسکنڈ کہتے ہیں کہ سی آئی اے کے اہلکاروں کو اس سازش کا علم بحرین میں گرفتار ہونے والے کچھ ایسے افراد سے ہوا جو اس سیل کے رکن تھے۔

سب وے نظام میں سائینائیڈ حملے کے بارے میں اس کمپیوٹر سے پتہ چلا تھا جو گرفتار ہونے والے افراد کے زیرِ استعمال تھا۔ القاعدہ ارکان نے اس حملے کے لیئے جو پرزے استعمال کرنے تھے ان سے ہائیڈروجن سائینائیڈ گیس نکلنی تھی اور کتاب کے مطابق اس گیس کا اخراج ایک ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے کیا جانا تھا۔

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کا خیال ہے کہ اس حملے میں انسانی جانوں کا ضیاع اتنا ہی ہوتا جتنا گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہوا تھا۔ سی آئی اے نے صدر جارج بش کو اس مشین کا نمونہ بھی دکھایا تھا جو ان حملوں میں استعمال کی جانی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد