غربِ اردن میں الفتح کی نئی ملیشیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین میں غربِ اردن کے علاقے جنین میں صدر محمود عباس کی وفادار نئی ملیشیا نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ یہ تعیناتی غزہ میں حماس حکومت کی جانب سے چند ہفتے قبل ہی اپنی فورسز کی تعینات کے بعد ہوئی ہے۔ نئی ملیشیا کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ نئی فورسز کی تعیناتی کا مقصد سرکاری فورسز کو مدد فراہم کرنا ہے جبکہ حماس کے نائب وزیراعظم ناصر شعر نے اس قدم کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نئی ملیشیا کی تشکیل سے امکان ہے کہ حماس اور محمود عباس کی فتح پارٹی کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو جائے گا۔ نئی فورس کے سربراہ عطا ابو رمیلہ کا کہنا ہے کہ حماس کی فورس اور فتح پارٹی کی اس نئی فورس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی فورس کسی کے خلاف تشکیل نہیں دی گئی ہے بلکہ اس کا مقصد فلسطین کے قومی منصوبوں کا تحفظ ہے۔ اطلاعات ہیں کہ محمود عباس نےاختلافات ختم کرنے کے لیے مختلف پارٹیوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں تاہم بتایا جارہا ہے ان ملاقاتوں میں حماس رہنما شریک نہیں ہوئے ہیں۔ ادھر فلسطین میں معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کو امداد فراہم کرنے والے مغربی ممالک نے حالیہ انتخابات میں حماس کی فتح اور حکومت کی تشکیل کے بعد سے فلسطینی انتظامیہ کو امدادی رقم کی براہ راست فراہمی روک دی ہے۔ مغربی ممالک کا مطالبہ ہے کہ حماس تشدد چھوڑ دے اور اسرائیل کو تسلیم کرے۔ سنیچر کو وزیر خزانہ عمر عبدالزراق نے کہا تھا کہ پیر کو تقریبا چالیس ہزار ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ ادا کی جائے گی جبکہ جمعہ کو وزیراعظم اسماعیل حانیہ نے تمام ملازمین کو دو دن کے اندر تنخواہوں کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا۔ | اسی بارے میں فلسطینیوں کے لیے عبوری امداد09 May, 2006 | آس پاس فلسطینی دھڑوں کے بیچ مسلح جھڑپیں19 May, 2006 | آس پاس فلسطینی انٹیلیجنس سربراہ شدید زخمی20 May, 2006 | آس پاس فلسطین تشدد: حماس کا کارکن قتل24 May, 2006 | آس پاس فلسطینی ساتھ دیں: ایہود اولمرت 25 May, 2006 | آس پاس غزہ: اسرائیلی حملے، 7 فلسطینی ہلاک30 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||