الزرقاوی کے ’معتمدِ خاص‘ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن میں حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے القاعدہ تنظیم کے ایک سینئر رکن کو گرفتار کر لیا ہے جو عراق میں جاری مزاحمت میں بہت زیادہ حد تک شریک تھے۔ اردن کے دارالحکومت عمان میں سکیورٹی حکام نے گرفتار کیئے جانے والے شخص کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے امریکہ کو مطلوب القاعدہ کے اہم ترین لیڈر ابو مصعب الزرقاوی کے دستِ راست اشخاص میں سے ایک ہے۔ اردنی ٹیلی وژن کے مطابق گرفتار ہونے والا ڈکیتی، اغواء اور قتل جیسی وارداتوں میں بھی مطلوب تھا۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اردنی حکام نے جس شخص کو پکڑا ہے اس کا نام کیا ہے اور اسے کیسے گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق زیرِ حراست شخص کے بارے میں تمام تفصیلات جمعرات کی شام ٹیلی وژن کے ایک خصوصی پروگرام میں نشر کر دی جائیں گی۔
اردن میں پیدا ہونے والے ابو مصعب الزرقاوی کو عراق میں جاری خونی مزاحمت کا سرخیل قرار دیا جاتا ہے۔ الزرقاوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے لاتعداد بم حملے اور اغواء کے واقعات کی سازش کی ہے اور عراقیوں کے ساتھ ساتھ کئی غیر ملکیوں کو قتل کیا ہے۔ وہ امریکہ کو تو مطلوب ہیں ہی، ساتھ ساتھ اردن میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے الزام میں انہیں خود اپنے ملک یعنی اردن میں بھی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ الزرقاوی نے سن دو ہزار تین کے نومبر میں عمان کے تین ہوٹلوں میں حملوں کی ذمہ داری کا دعویٰ کیا تھا جن میں ساٹھ افراد مارے گئے تھے۔ حال ہی میں الزرقاوی نے اپنی ایک وڈیو براڈکاسٹ جاری کی تھی لیکن بعض اطلاعات کے مطابق عراق میں جاری مزاحمت کاری میں پچھلے کچھ ماہ سے ان کے کردار میں کچھ کمی آ گئی ہے۔ | اسی بارے میں الزرقاوی کا وڈیو 25 April, 2006 | آس پاس الزرقاوی غلطی سے رہا: عراقی وزیر16 December, 2005 | آس پاس الزرقاوی کے زخمی ہونے کا معمہ28 May, 2005 | آس پاس الزرقاوی، اسامہ، ایک جان دو قالب؟19 October, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||