BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 April, 2006, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران، حل مذاکرات کے ذریعے: پوپ
پوپ بینڈکٹ
پوپ بینڈکٹ نے روم کے سینٹ پیٹر سکوائر میں ایسٹر کے سالانہ روایتی پیغام دیا
سولہویں پوپ بینڈکٹ نے اپیل کی ہے کہ ایران کے جوہری بحران کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔

روم کے سینٹ پیٹر سکوائر میں ایسٹر کے سالانہ روایتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ سنجیدہ اور پُر خلوص بات چیت کے ذریعے ایک ایسا حل نکالا جا سکتا ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو‘۔

انہوں نے عراق میں امن کے قیام، سوڈان کے خطے دارفر میں لوگوں کے مصائب کے خاتمے اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ’بات چیت کا راستہ‘ کھلا رکھنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی اپیل بھی کی۔

پوپ منتخب ہونے کے بعد پوپ بینڈکٹ کا ایسٹر کے موقع پر یہ پہلا پیغام ہے اور اسے پچاس ملکوں میں براہِ راست نشر کیا گیا ہے۔

سنیچر کو پوپ بینڈکٹ نے بیسلیکا میں بحیثیت پوپ ایسٹر کی پہلی عبادت کرائی۔ اس موقع پر ہزارہا زائرین نے پوپ کو واحد شمع جلاتے ہوئے دیکھا اور عبادت کی۔

بعد میں اس شمع کی لو سے اجتماع میں موجود زائرین کی ہزارہا شمعوں کو جلایا جاتا ہے۔

پانچ صدی قبل اسی ماہ میں بیسلیکا کی تعمیر شروع کی گئی تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ پہلے پوپ سینٹ پیٹر لی تدفین بھی یہیں ہوئی تھی۔

دریں اثنا ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے متنبہ کیا ہے کہ ان کے ملک ایران پر حملے سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا بلکہ اس سے پورے خطے کو نقصان پہنچے گا۔

شام کے دورے کے دوران انہوں نے ایک بار پھر اس پر اصرار کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام پُر امن ہے اور اس سے پورے خطے کو فوائد حاصل ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد