BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 April, 2006, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس: ’احتجاج جاری رہےگا‘
امکان ہے کہ منگل کے احتجاج کے بعد کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔
امکان ہے کہ منگل کے احتجاج کے بعد کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔
فرانس میں متنازعہ نئے لیبر قانون کے خلاف بڑے پیمانے پراحتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مزدوروں اور طلباء کی یونینوں کو امید ہے کہ وہ گزشتہ دنوں کی طرح رواں ہفتے میں بھی لاکھوں افراد کو سی پی ای نامی قانون کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر لائیں گے، تاہم دوسری طرف یہ اشارے بھی مل رہے ہیں کہ احتجاجی رہنما حکومت سے مذاکرات کے لیے رضامند ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ اتوار کو نافذ کیئے جانے والے مذکورہ نئے قانون کے تحت نوجوانوں کو ملازمت دینا اور اس سے نکالنا آسان بنا دیا گیا ہے۔

متوقع احتجاج سے سڑکوں پر ٹریفک اور ریل کے نظام میں خلل کے علاوہ پروازوں میں بھی تاخیر ہونے کا امکان ہے۔

جلوسوں کے دوران توڑ پھوڑ کو روکنے کے لیے دارالحکومت پیرس میں ہزاروں پولیس اہلکاروں کو تعنیات کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف اس بات کا امکان بھی ہے کہ احتجاجی یونینوں کے رہنما حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

طلباء کی قومی یونین کے سربراہ برونو جلیارڈ نے کہا کہ وہ حکمران یونین کی طرف سے مذاکرات کی دعوت کو قبول کر سکتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا اسی صورت میں کریں گے جب انہیں اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آنے والے دنوں میں نئے قانون کے تحت ملازمت کا کوئی نیا معاہدہ نہیں گا۔

سی ایف ٹی سی نامی ایک دوسری بڑی یونین نے بھی طلباء یونین کے رہنما کے اس بیان کی تائید کی ہے۔

فرانسیسی اخباروں کے مطابق متوقع احتجاج کو روکنے کی غرض سے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی نے یہ معاملہ وزیر اعظم ڈامینک ڈی ولیپن سے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔

سی پی ای (ملازمت کا پہلا معاہدہ) نامی نئے قانون پر صدر شیراک نے گزشتہ جمعہ کو دستخط کیے تھے تاہم بعد میں انہوں نے ایک ٹی وی تقریر کے دوران معاہدے کی مدت دو سال سے کم کر کے ایک سال کر دی تھی۔ قانون کے مطابق ان کی ملازمت کے پہلے سال کے دوران نوجوانوں کو کوئی عذر بتائے بغیر برطرف کیا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم ڈی ولیپن اور وزیر داخلہ نکولس سرکوزی

تاجرو ں کی یونین نے بعد میں کہا کہ صدر شیراک کا فارمولا اس کے لیے ناقابل قبول ہے۔

نئے قانون کے محرک وزیراعظم ڈی ولیپن ہیں۔ ان کی حکومت کا اصرار ہے کہ یہ قانون ملک میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح (جو اس وقت بیس فیصد ہے) کو قابو کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ آجر قانون کے اس حصہ کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں جس کے تحت وہ جوجوانوں کو ملازمت سے برخواست کر سکتے ہیں۔

حکومت کے مطابق ملک کے ان علاقوں میں جہاں بیروز گاری کی شرح چالیس فیصد تک بڑھ جانے کا خدشہ ہے نیا قانون بیروزگار نوجوانوں کے لیے مددگار ہوگا لیکن طلباء کا خیال اس سے ملازمت کےمواقعوں میں عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد