انگریزی کیوں بولی؟ شیراک کا واک آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے رہنماؤں کا ایک اجلاس اچانک کچھ دیر کے لیئے رُک گیا جب فرانس کے صدر ژاک شیراک اس وقت احتجاجاً ’واک آؤٹ‘ کر گئے جب ان کے ایک ہم وطن نے انگریزی زبان میں تقریر شروع کردی۔ مقرر نے جو کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یورپی آجروں کی فیڈریشن کے صدر ہیں کہا تھا کہ انگریزی زبان کاروباری دنیا کی زبان ہے۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب یورپی اتحاد کے رہنما توانانی کی مشترکہ پالیسی پر اتفاق کے لیئے جمعرات کو دو روزہ اجلاس کے لیئے برسلز میں جمع تھے۔ فرانسیسی شہری ایئرنسٹ اینٹونی نے جو نزع کا سبب بنے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ انگریزی میں خطاب کریں گے کیونکہ ان کے بقول آج کی دنیا میں انگریزی یورپ میں کاروبار کی تسلیم شدہ زبان ہے۔ ایک فرانسیسی اہلکار نے بتایا کہ صدر شیرا، فرانس کے وزیرِ خارجہ اور وزیرِ خزانہ تینوں اس اجلاس کو چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ اس واک آؤٹ کی سربراہی خود فرانسیسی صدر نے کی۔ تاہم جب مسٹر انٹونی نے اپنا خطاب ختم کر لیا تو فرانسیسی صدر اس کمرے میں واپس آگئے۔ ان کے آنے کے بعد ایک اور فرانسیسی شہری نے جو یورپی سنٹرل بینک کے صدر بھی ہیں، فرانسیسی زبان میں تقریر کی۔ یورپی اتحاد کے اس اجلاس کا مقصد یہ بھی طے کرنا ہے کہ یورپی ممالک توانائی کی پالیسی کو کیسے مربوط بنا سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں شیراک سوتے رہے، جہاز اڑتا رہا10 September, 2004 | آس پاس شیراک کی علاوی سے ’بے رُخی‘ ؟05 November, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||