شیراک سوتے رہے، جہاز اڑتا رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ بات منظرعام پر آئی ہے کہ روس کی جانب اپنے حالیہ فضائی سفر کے دوران فرانسیسی صدر ژاک شیراک نے اپنے پائلٹ سے کہا کہ وہ طیارے کو تھوڑے لمبے راستے سے لے چلے تاکہ وہ اپنی نیند پوری کرلیں۔ ژاک شیراک روسی رہنما ولادمیر پوتن سے ملنے روسی کے ساحلی شہر سوچی جارہے تھے۔ بحر اسود پر واقع روسی شہر اور فرانس کے دارالحکومت پیرس کے درمیان شیراک کی نیند پوری کرنے کیلئے طیارے نے ضرورت سے دوگنا سفر طے کیا۔ شب کے اس سفر میں طیارے نے مزید دوہزار بارہ کیلومیٹر راستہ طے کیا۔ نامہ نگار ہنری مارٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ پیرس اور سوچی کے درمیان یہ سفر صرف تین گھنٹے اور چالیس منٹ کا ہے لیکن ژاک شیراک کے اس سفر میں طیارے نے چھ گھنٹے کا سفر کیا۔ روس کی جانب سفر شروع کرنے سے پہلے یہ طیارہ فرانس کی فضا میں اڑتا رہا، اس نے پیرس سے جزیرہ جرسی کی جانب رخ کیا، پھر بورڈیو کی جانب مڑا، تولوز شہر اور پائرینیز پر اڑتا رہا، پھر واپس پیرس کی جانب آیا جہاں سے روس کی راہ پر گامزن ہوا۔ ایک فرانسیسی ہفتہ وار کے مطابق رات کے سوا گیارہ بجے پرواز بھرنے کے بعد ژاک شیراک نے فضا میں اپنی نیند پوری کی اور صبح پانچ بجکر بیس منٹ پر ٹھیک ناشتے کے وقت سوچی پہنچے۔ صدر شیراک کے دفتر سے اس خبر کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم فرانسیس ہفتہ وار نے کہا ہے کہ یہ خبر باوثوق ذرائع پر مبنی ہے۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||