’حملے کا حکم اسامہ نے دیا تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حلموں میں ملوث ہونے کے الزام میں قید زکریہ موساوی نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا ہے انہیں وایٹ ہاوس سے جہاز ٹکرانے کا حکم اسامہ بن لادن نے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے دوسرے مرحلے میں انہیں وایٹ ہاوس سے جہاز ٹکرانا تھا۔ سینتسں سالہ زکریہ موساوی نے کہا کہ انہیں گیارہ ستمبر کو پہلے مرحلے کے حملوں کے لیے کبھی نہیں چنا گیا جیسا کہ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ گزشہ سال زکریہ موساوی نے گیارہ ستمیر کو واشنگٹن اور نیو یارک پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو تسلیم کیا تھا۔ گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملوں میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی ریاست ورجینہ میں عدالت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کیا زکریا موسوی کو موت کی سزا سنائی جانی چاہیے۔ انہوں نے عدالت میں جارح کے دوران وکیل استغاثہ سے کہا کہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل تفتیش کاروں سے جھوٹ بولا تھا تاکہ یہ منصوبہ پورا ہو سکے۔ زکریا موساوی کو اگست دو ہزار ایک میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے رچرڈ ریڈ کو جو ’شؤ بمبار‘ کے نام سے مشہور ہیں پہلے مرحلے کے حملوں کے بعد جہاز اغواء کرکے اس سے وایٹ ہاوس کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم پیر کو ہونے والی عدالتی کارروائی سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گیارہ ستمبر کے کتنے دن بعد دوسرا حملہ کیئے جانے کا منصوبہ تھا۔ عدالت میں پیشیوں کے دوران موساوی نے کئی مرتبہ متضاد بیانات بھی دیئے ہیں جیسے کہ اس کی دماغی ٹھیک نہ ہو۔ | اسی بارے میں 11 ستمبر: ہسپانیہ، امریکہ میں مقدمے22 April, 2005 | صفحۂ اول امریکہ میں حملے: پہلا اقرار جرم 22 April, 2005 | صفحۂ اول سزائےموت ملنی چاہیے: امریکہ23 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||