کیا ایٹا کا عہد ختم ہو گیا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین میں باسک علیحدگی پسند تنظیم ایٹا نے مستقل بنیادوں پر جنگ بندی کا اعلان کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید یہ یورپ میں پرانی طرز کے قوم پرست مسلح گروہوں کے زوال کی جانب ایک اور قدم ہے۔ شمالی آئرلینڈ میں آئی آر اے نے پہلے ہی ہتھیار پھینک دیئے ہیں جبکہ ترکی میں پی کے کے، کردستان ورکر پارٹی بھی جنگ بندی کے اعلانات کر چکی ہے۔ خاص طور سے انیس سو ننانوے میں عبداللہ اوکلان کی گرفتاری کے بعد سے اس تنظیم کا دم خم ختم ہو چکا ہے۔ یورپ میں ایسی جماعتوں یا گروہوں کے زوال کے کئی اسباب ہیں۔ یہاں قوم پرستی کا اثر ختم ہو چکا ہے کیونکہ مختلف ممالک یورپی اتحاد کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ یورپی اتحاد اپنے رکن ممالک سے اعلیٰ ترین معیار کے حقوقِ انسانی کا مطالبہ کرتا ہے اور ان حقوق کی ادائیگی ہی متاثرہ علاقوں میں کشیدگی کم کرنے کا باعث بنتی ہے کیونکہ جب حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں کم ہوں گی تو حکومتوں کے خلاف شکایات بھی کم ہوں گی۔ سپین کے وزیر اعظم زپاتیرو نےایٹا کے مستقل جنگ بندی کے اعلان کا بہت ہی محتاط خیر مقدم کیا ہے۔ ایٹا کی مسلح تحریک چار دہائیوں پر مشتمل ہے۔ سپین کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اتنے برسوں کی ہوناکیوں کے بعد ابھی امن دور اور مشکل ہے۔ ایٹا کے اس اعلان کے مطابق یہ جنگ بندی جمعہ چوبیس مارچ سے عمل میں آئے گی۔ اس سے پہلےایٹا نےصحافیوں کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا ’اب ہمارا مقصد باسک علاقوں میں جمہوری عمل کا نیا دور شروع کرنا ہے۔‘
سپین کے ایک وسیع باسک خطے میں علیحدہ وطن کا مطالبہ کرنے والی اس تنظیم کے پس منظر پر بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایٹا دراصل طلباء کی ایک مزاحمتی تنظیم تھی جو سب سے پہلے ساٹھ کے عشرے میں منظر عام پر آئی۔ یہ طلباء اس وقت کے آمر حکمران جنرل فرانکو کے طرز حکومت کے خلاف اٹھے تھے۔ جنرل فرانکو کے دور حکومت میں با سک زباں پر پابندی تھی اور وہاں کی جداگانہ ثقافت کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی۔ سیاسی اور ثقافتی نظریات دبانے کے لیئے باسک دانشوروں کو طرح طرح کی اذیتیں اور قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا جاتا تھا۔ تیس برس تک ایک پر تشدد تحریک کے ذریعے ایٹا باسک علاقے کے لیے سپین کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں خاصی حد تک خود مختاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایٹا کی مزاحمت کمزور کیسے پڑی۔ نامہ نگاروں کے مطابق ابھی یہ بحث طلب ہے کہ ایٹا کمزور پڑی ہے یا نہیں۔ البتہ 1975 میں جب جنرل فرانکو اس دنیا سے اٹھے تو اس کے بعد سپین میں جمہوریت کے دور کا آغاز ہوا۔
اس کے ساتھ ساتھ ایٹا کی سرگرمیاں قدرے کم ہونی شروع ہوگئیں اور سپین کی حکومت نے بھی فرانس کی پولیس کے ساتھ ملکر تنظیم کی مزاحمتی استعداد کو کافی ضرب لگا ئی۔ تاہم خود اس تنظیم کا ایک پر تشد اقدام اس کےلیئے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ 1997 میں حکمراں جماعت کے ایک رکن کے اغواء اور اسے بیدردی سے سر پر گولی مار کر ہلاک کیا جانا ایٹا کو بہت مہنگا پڑا۔ اس واقعہ پر سپین کی رائے عامہ نہ صرف ایٹا کے خلاف ہوگئی بلکہ ملک کے ساٹھ لاکھ عوام باسک کے خلاف سینہ سپر ہو کر سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ عوامی مظاہرہ چار دن تک جاری رہا اور لوگوں نے باسک سے تشدد ترک کرنے کا پر زور مطالبہ کیا۔عوامی دباؤ کے سامنے ایٹا کو عارضی جنگ بندی کرنی پڑی۔ دو برس قبل میڈریڈ بم حملوں کے بعد جس میں دو سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے تھے ایٹا کی سرگرمیاں بلکل ہی محدود ہو گئیں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ایٹا کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ جمہوری یورپ میں تشدد کے ذریعے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ کیا ایٹا تحریک کے خاتمے کو یورپ میں قوم پرست تحریکو ں کا زوال قرار دیا جاسکتا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ایسا عین ممکن ہے۔ دراصل یورپ میں قوم پرست مسلح قوتیں اور گروپ دھیرے دھرے ختم ہورہے ہیں۔ اس کی وجہ ہے یہاں کا آزاد جموری کلچر ہے۔ یورپی عوام کسی بھی نسل یا ملک سے تعلق رکھتے ہوں، انہیں یورپ میں کہیں بھی جا کر رہنے کی آزادی ہے۔ انسانی حقوق کی پاسداری یہاں کے نظام میں رچ بس چکی ہے۔ لہذا مسلح جدوجہد اب ایک فرسودہ طرز عمل بن کے رہ گیا ہے۔ اس سے پہلے شمالی آئرلینڈ میں قوم پرست مسلح تنظیم آئی آر اے بھی سیاسی سمجھوتہ کر ہتھیار چھوڑ چکی ہے۔ میڈرڈ میں بی بی سی کے نامہ نگار کہتے ہیں کہ ایٹا کا یہ اعلان امن کے عمل کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’ایتا‘:مستقل جنگ بندی کا اعلان22 March, 2006 | آس پاس ایٹا تنظیم کی تاریخ12 March, 2004 | نیٹ سائنس سپین میں ایٹاانتباہ کے بعد دھماکے21 August, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||