برطانوی ایشینز کے دلوں کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دل کے مرض کے بارے میں مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ایشیائی کمیونٹی کو دل کے مرض اور ذیابیطس سے بچانے کے لیئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق یورپ کے لوگوں کی نسبت ایشیائی نژاد لوگوں میں دل کی بیماری کے امکانات پچاس فیصد زیادہ ہیں۔ ہر پانچ میں سے دو ایشیائی افراد ’ٹائپ ٹو‘ ذیابیطس کا شکار ہیں جبکہ باقی آبادی میں یہ شرح تین فیصد ہے۔ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق ایشیائی لوگوں کا رہن سہن اس کا باعث ہے اور انہیں اس ضمن میں احتیاط کرنی چاہیئے۔ اس بارے میں مہم چلانے والے اداروں نے پارلیمنٹ پر زور دیا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیئے فوری اقدامات کیئے جائیں۔ اس تحقیق سے وابستہ پروفیسر پال ڈرینگٹن نے کہا ہے کہ ’فوری خطرے والی بات جنوب مشرقی ایشیائی باشندوں میں تشخیص کے بغیر ذیابیطس، زیادہ کولیسٹرول اور بلند فشار خون کی موجودگی ہے‘۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ’اچھی خبر یہ ہے کہ بیماری کے آغاز میں تشخیص اور علاج سے اس کے انجام جیسے کہ دل کے دورے سے بچا جا سکتا ہے‘۔ اس تحقیق کے مطابق ایشیائی مرد اور خواتین کا وزن عام آبادی کی نسبت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وارک یونیورسٹی کے پروفیسر سدھیش کمار کا کہنا ہے کہ کمر کی پیمائش سے دل کی بیماریوں کے خدشے کے بارے میں اچھی طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’اگر آپ ایک ایشیائی خاتون ہیں اور آپ کی کمر اسی سینٹی میٹر اور اگر آپ مرد ہیں اور آپ کی کمر نوے سینٹی میٹر سے زائد ہے تو آپ کو دل کی بیماری اور ذیابیطس کا زیادہ خطرہ ہے اور آپ کو ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے اور ڈاکٹروں کو بھی اس خصوصی خدشے کا خیال رکھنا چاہیئے‘۔ ساؤتھ وارکشائر میں ایک پائلٹ پراجیکٹ بھی چل رہا ہے جس میں لوگوں کو صحت مند رجحانات کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس کے منتظمین نے اس بارے میں ایک ڈی وی ڈی تیار کی ہے جس میں پتہ چلتا ہے کہ خوراک اور رہن سہن کے طریقے میں معمولی سی تبدیلی بھی بہت اہم فرق ثابت ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ایٹم بم حملے اور صحت کے مسائل01 March, 2006 | نیٹ سائنس ایڈز کی دوا سستی ہو جائے گی: کلنٹن13 January, 2006 | آس پاس وٹامن ڈی سے کینسر میں کمی28 December, 2005 | نیٹ سائنس سردی سے بچوں میں کینسر12 December, 2005 | نیٹ سائنس بغل گیری خواتین کے لئے بہتر کیوں09 August, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||