دو سو بچوں سمیت ہزاروں ملبے کے نیچے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امدادی کارکن وسطی فلپائن کے جزیرہ لیٹی میں جمعہ کو مٹی کے تودے گرنے کے واقعہ کے بعد کیچڑ اور ملبے میں سے زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امدادی کارکنوں کے مطابق خدشہ ہے کہ اس حادثے میں قریباً ایک ہزار آٹھ سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ گنساہوگان نامی گاؤں میں شدید بارشوں کے بعد آبادی کے قریباً پانچ سو گھروں پر مٹی کے تودے آ گرے تھے۔ امدادی کارکن مٹی کھودنے کے لیے بیلچے استعمال کر رہے ہیں کیونکہ کیچڑ کی موٹی تہہ کی وجہ سے مشینیں جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ یہ کارکن ایک پرائمری سکول میں پھنسنے والے 200 بچوں کو تلاش کر رہے ہیں تاہم انہیں ان میں سے کسی کے زندہ نکلنے کی زیادہ امید نہیں ہے۔ امریکہ نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے دو جہاز فلپائن بھیج دیے ہیں جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایک لاکھ ڈالر مالیت کے آلات بھی فلپائن کو فراہم کر دیے ہیں۔ نقصان کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایک ٹیم بھی علاقے میں پہنچ رہی ہے۔ عالمی ریڈ کراس نے علاقے میں لاشیں رکھنے کے تھیلے اور بنیادی ضروریات کے لیے درکار سامان پر مشتمل امدادی سامان متاثرہ علاقے میں بھیجا ہے۔ ریڈ کراس نے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے’ کمبلوں، خیموں اور ادویات کی فراہمی کی اپیل بھی کی ہے۔ جمعہ کو ہونے والی اس لینڈ سلائیڈ سے بچ جانے والے شخص ڈاریو لباتان کا کہنا تھا کہ ’ ایسا لگا کہ پہاڑ پھٹ گیا ہے اور پھر ہر چیز ہلنے لگی۔ مجھے کوئی بھی گھر سلامت نظر نہ آیا‘۔ جمعہ کو کیچڑ اور ملبے سے چند درجن افراد کو ہی باہر نکالا جا سکا تھا۔ حکام نے علاقے کے مزید گیارہ دیہات کو بھی خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جنوبی لیٹی کے گورنر روزیٹ لیریاس کا کہنا تھا کہ’ ہم نے انہیں گزشتہ روز ہی جانے کے لیے کہہ دیا تھا۔ آج میں نے کچھ دیہات کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے کیونکہ لوگ اپنے گھر چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے‘۔
فلپائن کی صدر گلوریا ارویو کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کو تودے گرنے کے مزید واقعات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ فلپایینی ریڈ کراس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’ ہم بہترین کی امید کر رہے ہیں اور بدترین کے لیے تیار بھی ہیں۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ ہم کچھ افراد کو زندہ نکال سکیں گے‘۔ لینڈ سلائیڈنگ کا نشانہ بننے والے علاقے میں موجود بی بی سی کی نمائندہ کا کہنا ہے کہ ’علاقے میں زندگی کے کوئی آثار نہیں ہیں، کوئی عمارت کھڑی نظر نہیں آ رہی ہے اور ہر جگہ ٹین کی ٹوٹی ہوئی چھتوں، جڑ سے اکھڑے درختوں اور سرخ مٹی کے ڈھیر ہیں‘۔ یہ لینڈ سلائیڈنگ علاقے میں دس روز سے جاری بارشوں کے بعد ہوئی۔ بی بی سی کی نمائندہ کا کہنا ہے متاثرہ علاقے میں اگائے جانے والے ناریل کے درختوں کی کمزور جڑوں کی وجہ سے اس علاقے میں تودے گرنے کا خطرہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ علاقہ لینڈ سلائیڈنگ کے علاوہ سمندری طوفانوں کی زد میں بھی رہا ہے۔ | اسی بارے میں فلپائن: سینکڑوں ہلاک و لاپتہ 17 February, 2006 | آس پاس یمن تودہ: ہلاک شدگان 60 ہو گئے01 January, 2006 | آس پاس یمن میں تودہ گرنے سے تیس ہلاک29 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||