فلپائن: سینکڑوں ہلاک و لاپتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وسطی فلپائن میں پہاڑی تودہ گرنے سے ایک پورا گاؤں دفن ہو گیا ہے۔ گنساہوگان نامی گاؤں میں اب تک سولہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ فلپائنی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ 1500 سے 2500 افراد مٹی تلے دبے ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تودے تلے دفن ہونے والے گھروں کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ ہے اور اس میں ایک سکول کی عمارت بھی شامل ہے۔ علاقے کے گورنر کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ عرصہ قبل متاثرہ علاقے کے زیادہ تر لوگ تودے گرنے کے خطرے کے پیشِ نظر نقل مکانی کرگئے تھے تاہم بارش تھمنے کے بعد ان میں سے کچھ خاندان واپس آ گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ زمین بارش کی وجہ سے دلدلی ہو چکی تھی اور درخت اوپر سے بہتی آ رہی کیچڑ کے ساتھ نیچے آ رہے تھے‘۔ فلپائنی ریڈ کراس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ فلپائنی فضائیہ منیلا سے سراغرساں کتوں کی ایک ٹیم علاقے میں بھجوا رہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ علاقے میں مشقیں کرنے والی امریکی فوج ان کی مدد کرے گی۔ اس لینڈ سلائیڈ سے بچ جانے والے شخص ڈاریو لباتان کا کہنا تھا کہ ’ ایسا لگا کہ پہاڑ پھٹ گیا ہے اور پھر ہر چیز ہلنے لگی۔ مجھے کوئی بھی گھر سلامت نظر نہ آیا‘۔ فلپائن کے شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک چار لاشیں نکالی گئی ہیں تاہم مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے کیونکہ جائے حادثہ تک رسائی میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ فوجی ہیلی کاپٹروں کو علاقے کا جائزہ لینے اور امدادی کارروائیوں کیلیے بھیج دیا گیا ہے۔ یہ لینڈ سلائیڈنگ علاقے میں دس روز سے جاری بارشوں کے بعد ہوئی۔ فلپائنی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ علاقے میں دو فوجی امدادی ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں اور سو سے زیادہ تربیت یافتہ افراد مٹی میں سے لوگوں کو نکالنے اور کھدائی کے عمل میں مصروف ہیں۔ منیلا میں بی بی یس کی نمائندہ سارہ ٹامس کا کہنا ہے متاثرہ علاقے میں اگائے جانے والے ناریل کے درختوں کی کمزور جڑوں کی وجہ سے اس علاقے میں تودے گرنے کا خطرہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ علاقہ لینڈ سلائیڈنگ کے علاوہ سمندری طوفانوں کی زد میں بھی رہا ہے۔ | اسی بارے میں یمن تودہ: ہلاک شدگان 60 ہو گئے01 January, 2006 | آس پاس یمن میں تودہ گرنے سے تیس ہلاک29 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||