ابوحمزہ مصری کو7 سال قید کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ مسلمان عالم ابو حمزہ المصری کو قتل پراکسانے اور نسلی منافرت پھیلانے کے جرم میں سات سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ اس سے قبل ابو حمزہ المصری کو قتل کے لیے اکسانے کے جرم کا مرتکب پایا گیا تھا۔ لندن میں ایک جیوری نے یہ کہا کہ انہوں نے جو خطبے شمالی لندن کی مسجد میں دیے تھے ان کو سننے سے لوگوں میں ان لوگوں کے خلاف تشدد کے جذبات ابھرے ہیں جنہیں وہ اسلام کا دشمن سمجھتے تھے۔ لندن کے سینٹرل کریمنل کورٹ نے ابو حمزہ کو پندرہ میں سے قتل پر اکسانے کے چھ الزامات اور نسلی منافرت پھیلانے کے تین الزامات کا مجرم پایا گیا۔ ان کو ایک ایسی کتاب رکھنے کے جرم کا بھی مرتکب پایا گیا ہے جس سے دہشت گردی پھیلانے میں مدد ملی سکتی تھی یا جسے پڑھ کر انسان دہشت گرد بن سکتا ہے۔ یہ الزامات اس وقت سے شروع ہوتے ہیں جب ابو حمزہ شمالی لندن کی مسجد میں خطبے دیتے تھے۔ ان کے ان خطبوں کی ریکارڈنگ بھی جرم ثابت کرنے میں معاون ثابت ہوئی۔ مسجد کے ناظم اعلیٰ ہونے کی وجہ سے وہ برطانیہ کی سب سے زیادہ متنازعہ اور مشہور مسلمان شخصیت بن گئے تھے۔ استغاثہ کا موقف ہے کہ ابو حمزہ نے اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کیا ہے اور اس سے دوسروں کو قتل کرنے اور دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے پر اکسایا ہے۔ جیوری کے سامنے یہ بھی شواہد پیش کیے گئے کہ ابو حمزہ نے نہ صرف یہودیوں، اسلام کے نہ ماننے والوں اور جمہوریت پسند مغرب کے خلاف محاذ قائم کیے رکھا بلکہ انہوں نے اپنے کئی خطبات اور لیکچررز میں ہم جنس پرست پادریوں، سیاحتی صنعت، شاہی خاندان اور بکنی پہننے والی عورتوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کا دفاع کرنے والے وکلاء کا موقف ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ | اسی بارے میں حمزہ کی بےدخلی کے اقدامات 28 May, 2004 | آس پاس حمزہ کی حوالگی کا کیس ملتوی23 July, 2004 | آس پاس انسداد دہشتگردی: ابو حمزہ گرفتار27 August, 2004 | آس پاس ابو حمزہ سے تفتیش کیلیے مزید وقت28 August, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||