BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 May, 2004, 12:12 GMT 17:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حمزہ کی بےدخلی کے اقدامات
ابوحمزہ
برطانیہ کے سیکریٹری داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے کہا ہے کہ متنازعہ ’مبلغ‘ ابو حمزہ المصری کی برطانیہ سے بے دخلی کے لیےتمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔

سیکریٹری داخلہ نے ابو حمزہ کی خلاف کاروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر برطانیہ کے پاس متنازعہ مبلغ کے خلاف شہادتیں موجود ہوتیں تو اب تک ان کے خلاف عدالتی کاروائی ہو چکی ہوتی۔

ابو حمزہ کی امریکہ حوالگی کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔برطانیہ جہاں موت کی سزا ممنو ع ہے ، امریکہ سے وعدہ لینا چاہتا ہے کہ وہ انہیں پھانسی کی سزا نہیں دلوائے گا۔

امریکہ نے ابو حمزہ پر گیارہ الزامات لگائے ہیں۔اور وہ ان کی حوالگی چاہتا ہے تاکہ ان کے خلاف امریکہ میں مقدمات چلائے جا سکیں۔

سیکریٹری داخلہ نے کہا کی برطانیہ کے پاس شہادتوں کی بنیاد پر ابو حمزہ کی شہریت ختم کی گئی ہے۔

سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ابو حمزہ متنازعہ باتیں اور کام کر رہے ہیں۔" میں نے وہ تمام اقدامات کیے ہیں جو ان کی برطانیہ سے بے دخلی کے لیے ضروری ہیں۔"

برطانوی پولیس نےجمعرات کو ابو حمزہ کو لندن سے گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی اٹارنی جنرل جون ایشکرافٹ نے ابو حمزہ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے امریکی ریاست اوریگون میں دہشت گردی کے کیمپ بنا کر القاعدہ کو مدد فراہم کی۔

اگر ابو حمزہ پر امریکی الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے ۔

مصر میں پیدا ہونے والے ابو حمزہ کی برطانوی محکمۂ داخلہ کے ساتھ ان کی برطانیہ سے ملک بدری کے معاملے پر بھی قانونی جنگ جاری ہے۔ محکمۂ داخلہ نے ان کی شہریت ختم کر دی ہے۔

ابو حمزہ کو انیس سو اکیاسی میں ایک برطانوی شہری سے شادی کے ذریعے شہریت حاصل ہوئی تھی۔

ابو حمزہ کی امریکہ حوالگی کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔برطانیہ جہاں موت کی سزا ممنو ع ہے ، امریکہ سے وعدہ لینا چاہتا ہے کہ وہ انہیں پھانسی کی سزا نہیں دلوائے گا۔

جمعرات کو جب ابو حمزہ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ حوالگی کے بارے میں اپنی رضامندگی کا اظہار کریں گے۔ تو انہوں نے کہا ّمیں یہ نہیں چاہتا‘

فروری سن دو ہزار تین میں ان کو فنسبری مسجد میں ’تبلیغ‘ سے یہ کہہ کر روک دیا گیا تھا کہ وہ اپنی حیثیت کو بھلائی کے بجائے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ اس کے بعد سے ابو حمزہ مسجد کے باہر ’تبلیغ‘ کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد