BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 May, 2004, 19:17 GMT 00:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابو حمزہ کون ہیں؟
 ابو حمزہ
ابو حمزہ گیارہ ستمبر کے حملوں کو جائز قرار دیتے ہیں
یوں تو وہ لندن کی ایک علاقائی مسجد میں مبلغ ہیں- تاہم ان کی وجہ شہرت ان کے سخت گیر مذہبی خیالات اور ان کی شعلہ بیانی ہے۔

جوتے میں بم رکھنے والے برطانوی شدت پسند جان ریڈ اور امریکہ میں فرد جرم عائد کیے جانے زکریا موساوی ابو حمزہ کے خطبات سنتے رہے ہیں۔

2003 میں مسجد کے ٹرسٹ نے انھیں مسجد میں امامت کے فرائض اداکرنے سے روک دیا گیا۔ مگر وہ مسجد کے باہر کھڑے ہوکر اسشتعال انگیز خطبات اور بیانات دیتے رہے۔

بہت سے برطانوی مسلمان 2001 میں نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے حملوں کو جائز قرار دینے پر ابو حمزہ کی سخت مذمت کرتے ہیں-

47 سالہ مصطفیٰ کمال مصطفیٰ المعروف ابو حمزہ مصر کے شہر سکندریہ کے ایک متوسط خاندان میں میں پیدا ہوئے اور انجینیر بننے کے ارادے سے1979 لندن آئے تھے-

ابتدا میں انھوں نے لندن کے ایک مضافاتی قصبہ برائٹن میں تعلیم حاصل کی۔ کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں مصطفیٰ کمال انتہا پسند خیالات نہیں حامل نہیں تھے۔ 1981 میں ایک برطانوی خاتون سے شادی کرکے پھر یہیں کے ہورہے۔

ان کی سابقہ بیوی مس فلیمینگ کے مطابق شادی کے بعد وہ انتہائی سخت مزاج شوہر ثابت ہوئے اور یہ شادی پانچ برس کے بعد ہی ختم ہوگئی۔

شادی ختم ہونے کے بعد ابو حمزہ 1990 کے عشرے میں روس کے خلاف لڑنے کے لئے افغانستان گئے تھے۔ جہاں بارودی سرنگیں صاف کرتے ہوئے ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی-

ابو حمزہ نے ایک مرتبہ اسامہ بن لادن کو ایک اچھا انسان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں مسلم دنیا میں پسند کیا جاتا ہے ۔ انھوں نے برطانیہ کو عراق پرامریکی حملے کے سنگین نتائج کے بارے میں دھمکی دی ۔

مگر بہت سے مسلمانوں نے ان کی مذمت کی اور کہا وہ مسلمانوں کے نمائندگی نہیں کرتے۔

لندن میں 2002 میں انھوں نے المہاجرون نامی ایک سخت گیر اسلامی تحریک کی ایک ریلی سے خطاب کیا۔ جس میں القاعدہ کی حمایت کا اظہار کیا جارہا تھا۔ تاہم وہ ہمیشہ ان امریکی الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ وہ القاعدہ کے لئے دہشت گرد بھرتی کرتے ہیں

1999 میں یمن میں مبینہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبے میں برطانوی پولیس انہیں کئی دن تک حراست میں رکھ کر پوچھ گچھ کرتی رہی۔ یمنی حکام نے خود اپنی تحویل میں لینے کے لئے برطانیہ سے درخواست بھی کی مگر ابو حمزہ خود کو ایک صاف گو شخص اور بےگناہ کہتے ہیں۔

ان کے 17 سالہ صاحبزادے محمد مصطفیٰ یمن میں ایک دہشت گرد حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں تین برس قید کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

ابو حمزہ برطانوی شہریت کے حامل ہیں- برطانوی حکومت تاہم اب ان کی شہریت منسوخ کرنے کے لئے کارروائی کر رہی ہے۔

وزیر داخلہ ڈیوڈ بلینکٹ سمجھتے ہیں کہ ابو حمزہ بین الا اقوامی دہشت گردی خصوصا یمن اور الجزائر کی سخت گیر اسلامی تحریکوں میں کسی نہ کسی طور ملوث ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد