ابو حمزہ کو گیارہ الزامات کا سامنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں متنازعہ ’مبلغ‘ ابو حمزہ المصری کو امریکہ کی طرف سے ان کی حوالگی کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خیال ہے کہ وارنٹ کا تعلق ’دہشت گردی‘ سے ہے۔ برطانوی تحقیقاتی ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق کی ہے کہ سینتالیس سالہ ابو حمزہ کو مغربی لندن میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امریکہ کے اٹارنی جنرل جون ایشکرافٹ نے جمعرات کی دوپہر ان گیارہ الزامات کی تفصیل بتائی جن کے تحت ابو حمزہ کو امریکہ کے حوالے کیے جانے کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو اٹھانوے میں ابو حمزہ پر یمن میں لوگوں کو یرغمال بنانے کے ایک واقعہ میں الزام عائد کیے گئے تھے جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی اٹارنی جنرل کا کہا کہ ابو حمزہ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے امریکی ریاست اوریگون میں دہشت گردی کے کیمپ بنا کر القاعدہ کو مدد فراہم کی۔ اگر ابو حمزہ پر الزام ثابت ہوگئے تو انہیں عمر قید کی سزا بھی مل سکتی ہے اور سزائے موت بھی۔ ابو حمزہ جو لندن میں فنسبری کی مسجد کے باہر تبلیغ کرتے ہیں جمعرات کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوں گے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان کے مطابق انہوں نے ایکسٹراڈیشن ایکٹ سن دو ہزار تین کے تحت ابو حمزہ کے گھر کی تلاشی لی ہے۔ بی بی سی کے سماجی امور کے نامہ نگار ڈینیئل سینفرڈ کے مطابق امریکہ کی طرف سے ابو حمزہ کی حوالگی کی درخواست کا تعلق ’دہشت گردی‘ سے ہے اور جمعرات کو طے ہوگا کہ آیا ان کی ضمانت ہوتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ابو حمزہ کے خلاف شواہد اکٹھے کرتے رہے ہیں اور یہ ایک لمبی قانونی جنگ کا آغاز معلوم ہوتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے حوالگی کی درخواست پر فیصلے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ مصر میں پیدا ہونے والے ابو حمزہ کی برطانوی محکمۂ داخلہ کے ساتھ ان کی برطانیہ سے ملک بدری کے معاملے پر بھی قانونی جنگ جاری ہے۔ محکمۂ داخلہ ان کی شہریت ختم کرنا چاہتا ہے جو انہیں انیس سو اکیاسی میں برطانوی شہری سے شادی کے ذریعے حاصل ہوئی تھی۔ فروری سن دو ہزار تین میں ان کو فنسبری مسجد میں ’تبلیغ‘ سے بھی یہ کہہ کر روک دیا گیا تھا کہ وہ اپنی حیثیت کو بھلائی کے بجائے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ اس کے بعد سے ابو حمزہ مسجد کے باہر ’تبلیغ‘ کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||