امریکی طالبان کو دو سال قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سیٹل میں ایک عدالت نے طالبان حکومت کی مدد کا اعتراف کرنے والے نومسلم ’امریکی طالبان‘جیمز اوجامہ کو دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ امریکی ریاست سیٹل میں سزا پانے والے جیمز اوجامہ کو جن کی عمر اڑتیس برس ہے سن دو ہزار دو میں امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر دو الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ امریکہ میں دہشت گردی کی تربیت کے لئے کیمپ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم گزشتہ برس دہشت گردی کے خلاف حکومت کی مدد کرنے کے عہد کے بعد ان پر سے الزامات اٹھا لیے گئے تھے۔ تاہم ان پر صرف طالبان سے تعاون کرنے کا الزام برقرار رکھا گیا۔ توقع ہے کہ اس سال موسم گرما کے آغاز پر انہیں رہائی مل جائے گی کیونکہ وہ اپنی سزا کا پیشر حصہ پہلے ہی کاٹ چکے ہیں۔ جج کے سامنے انہوں نے مستقبل میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا عہد کیا۔
وہ ڈینور میں پیدا ہوئے تھے اور نوّے کی دہائی کے اوائل میں اسلام قبول کرلیا تھا۔ ستانوے میں انہوں نے کچھ وقت لندن میں گزارا جہاں متنازعہ عالم ابو حمزہ المصری سے ان کی دوستی ہوگئی۔ ادھر امریکی حکام نے گوانتانامو بے میں قید سپین کے ایک شہری کو وہاں کی حکومت کے حوالے کر دیا جہاں اس پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ انتیس سالہ عبدالرحمان احمد کو سن دو ہزار ایک میں افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ سپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ احمد سپین میں القاعدہ کا حلقہ ترتیب دے رہے تھے۔ احمد خلیج گوانتانامو کے پہلے اسیر ہیں جنہیں مقدمہ چلانے کی غرض سے ان کی حکومت کے حوالے کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||