BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 July, 2004, 16:29 GMT 21:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حمزہ کی حوالگی کا کیس ملتوی
حمزہ کی حوالگی
حمزہ افغانستان میں لڑائی کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔
برطانیہ میں متنازعہ ’مبلغ‘ ابو حمزہ المصری کو دہشت گردی کے الزام میں امریکہ کے حوالے کرنے کے سلسلے میں سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔

ابو حمزہ کے خلاف الزامات بیلمارش کی عدالت میں جمعہ کو پیش کیے گئے۔

جیمز لویس قیو سی نے کہا کہ ابو حمزہ نے ایک شخص کو افغانستان میں دہشت گردوں کے لیے ایک تربیتی کیمپ بھیجا تھا، یمن کے دہشت گردوں کو صلاح دی تھی اور طالبان کے ایک اہلکار کو خط بھی لکھا تھا۔

ابو حمزہ کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ان کی منصفانہ سماعت نہیں ہوگی۔

سماعت کو انیس اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

ابو حمزہ کی حوالگی کے لیے امریکی درخواست پر نئے ’فاسٹ ٹریک‘ عمل کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کی طرف سے جیمز لویس قیو سی نے ایف بی آئی کے کارکن مائکل بش کے حلفیہ بیان کے ہوالے سے کہا کہ ابو حمزہ نے اپنے تمام حامیوں سے کہا تھا کہ جہاد کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابو حمزہ نے افغانستان میں طالبان کے ایک کارکن کو خط کے ذریعے ایک انتہا پسند سے متعارف کرایا تھا۔

ابو حمزہ پر 1998 میں سیٹلائٹ فون کے ذریعے یمنی دہشت گردوں کو صلاح دینے کا الزام بھی ہے۔

ان پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے امریکہ کی ریاست اوریگان میں نیم فوجی دستے بنانے کی سازش کی تھی۔

مسٹر لویس نے عدالت کو بتایا کہ ابو حمزہ امریکہ اور دیگر ممالک کے خلاف جہاد کرنے کی سازش میں ملوث ہیں اور انہوں نے ہمیشہ امریکہ کے خلاف نفرت اور تشدد کے بیج بونے کی کوشش ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کیس کئی ماہ تک چل سکتا ہے۔

جج کو اب یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا ان الزامات کی بنا پر ابو حمزہ کی حوالگی جائز ہے۔

اس کے بعد وزیر داخلہ کیس پر فیصلہ کریں گے۔

عدالت میں سماعت کے دوران ابو حمزہ تھکے ہوئے نظر آئے۔ ان کے وکیلوں نے بتایا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔

مسٹر حمزہ کے وکیل ایڈ فٹزجیرلڈ قیو سی نے کہا کہ امریکہ میں گوانتانامو بے کے ایک قیدی پر تشدد اور بد سلوکی کے ذریعے حاصل کیے گئے بیانات اور ثبوت کی بنا پر ابو حمزہ کو سزا دی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ ابو حمزہ کو ایک صدارتی اعلان میں غیر ملکی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے تب تک ملزم کو بےقصور مانا جانا چاہئیے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد