برطانیہ :بی این پی کے رہنما بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو کی پارٹی برٹش نیشنل پارٹی کے قائد کو نسلی منافرت بھڑکانے کے دو الزامات سے بری کردیا گیا ہے۔ نِک گرِیفن کی تقریریں جن کی بنا پر مقدمہ قائم کیا گیا تھا بی بی سی کے ایک رپورٹر نے چوری چھپے ریکارڈ کرلی تھیں۔ نِک گرِیفن اور مارک کولیٹ کو ان الزامات سے بری کردیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دونوں پر ان دوسرے الزامات میں دوبارہ مقدمے چلائے جائیں گے جن پر جیوری اپنا فیصلہ نہیں دے سکی ہے۔ نکن گریفن نے جیوری کے سامنے ان الزامات کی تردید کی کہ انہوں نے نسلی منافرت کی کوشش نہیں کی۔ اس فلم کی تیاری کے لیے بی بی سی کے رپورٹر جیسن گوائن نے کئی ماہ بی این پی کا کار کن بن کر گزارے اور خفیہ طور پر ہونے والی گفتگو اور باتیں ریکارڈ کیں۔ | اسی بارے میں بی این پی: اسلام مخالفت کا اعادہ 16 July, 2004 | آس پاس بی این پی کی رکنیت سے منع27 July, 2004 | صفحۂ اول برطانیہ: ایشیائی پر حملے کا اعتراف15 July, 2004 | صفحۂ اول بی این پی کے سربراہ کی ضمانت14 December, 2004 | آس پاس اولڈہم: نسلی تشدد کا خوف04.01.2003 | صفحۂ اول انگلینڈمیں انتہا پسندجماعت کی کامیابی03.05.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||