بی این پی: اسلام مخالفت کا اعادہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برٹش نیشنل پارٹی، بی این پی کے رہنما نک گریفن نے اسلام کے خلاف اپنے حملوں کا اعادہ اور ان کی پارٹی کے لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے۔ بی این پی برطانیہ میں انتہا پسند دائیں بازو کی تنظیم تصور کی جاتی ہے۔ اور مذکورہ بالا خیالات کا اظہار بی این پی کے رہنما نک گریفن اور ان کے ساتھیوں نے بی بی سی کی خفیہ طور پر تیار کی گئی ایک ڈاکیومنٹری فلم ’سیکریٹ ایجنٹ‘ میں کیا ہے جو گزشتہ رات بی بی سی ون پر دکھائی گئی۔ اس فلم کی تیاری کے لیے بی بی سی کے رپورٹر جیسن گوائن نے کئی ماہ بی این پی کا کار کن بن کر گزارے اور خفیہ طور پر ہونے والی گفتگوئیں اور باتیں ریکارڈ کیں۔ اس فلم میں بی این پی کے رہنما نے ایسی باتیں بھی کہی ہیں جنہیں تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔ فلم میں بی این پی ایک رہنما سٹیورڈ ولیم کہتے ہیں ’میری دیرینہ خواہش ہے کہ میں بریڈ فورڈ کے تمام مساجد کو راکٹوں سے اڑادوں اور ان لوگوں کو جان سے مار دوں۔‘ سٹیورڈ کیمرے کے سامنے کہتے ہیں کہ انہیں اس کام کے لیے دس لاکھ گولیاں چاہیں۔ فلم میں بی این پی کے ایک کارکن سٹیو برکھم بیان کرتے ہیں کہ دو ہزار ایک میں بریڈ فرڈ میں ہونے والے فسادات کے دوران انہوں نے کس طرح ایک ایشیائی نژاد شہری کو گھونسے اور لاتیں رسید کیں۔ سیکریٹ ایجنٹ میں بی این پی کے رہنما نِک گریفِن کو بھی دکھایا گیا ہے جو اسلام کو ایک ظالمانہ اور شرپسند عقیدہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام زنا کی ترغیب دیتا ہے اور تلواک زور پر پھیلا ہے۔ فلم میں گریفن، پارٹی کے ایک اجلاس کے دوران کارکنوں سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں پارٹی کا ساتھ دین اور ان (مسلمانوں) کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ورنہ وہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں: ’اگر میں یہ بات باہر جا کر کہوں تو مجھے سات سال قید ہو سکتی ہے۔‘ فلم میں کونسل کے لیے بی این پی کے امیدوار ڈیو مڈگلے نے کہا کہ انہوں نے ایک ایشیائی کی دکان میں جو لے جایا جانے والا کھانا فروخت کرتی تھی، کے لیٹربکس میں کتے کا فضلا ڈالا تھا۔ گریفن نے بی بی سی کے پروگرام میں بی بی سی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے کاٹ چھانٹ کر ان کی تقریر کے صرف مخصوص حصے نشر کیے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنی تقریر میں دوسری برادریوں پر حملوں کی حوصلہ شکنی کی تھی۔ گریفن نے بعد میں کہا کہ وہ برکھم اور مڈگلے کو پارٹی سے نکال دیں گے جبکہ سٹیوارٹ کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔ گریفن کا کہنا ہے کہ اگر انہیں ٹی وی پر پورا وقت دیا جائے تو وہ یہ ثابت کر دیں گے کہ وہ جو کہتے ہیں درست کہتے ہیں۔ فلم میں قانونی ماہرین کی آراء بھی لی گئی ہیں جن کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ایسی باتوں پر سات سال اور کچھ باتوں پر جن کا اعتراف کیا گیا ہے عمر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||