بی این پی کی رکنیت سے منع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلستان اور ویلز میں پولیس والوں کو ہدایت کردی گئ ہے کہ وہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت برٹش نیشنل پارٹی کی رکنیت اختیار نہیں کر سکتے۔ اس حکم سے نو مہینے پہلے وزیر داخلہ نے یہ ہدایت جاری کی تھی کہ بی این پی کا کوئ رکن پولیس میں بھرتی نہیں ہوسکتا۔ برٹش نیشنل پارٹی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ نسل پرست جماعت ہے جس کی پالیسی یہ ہے کہ برطانیہ میں آْباد تمام غیر سفید فام باشندوں کواس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنی مرضی سےان ملکوں میں واپس چلے جائیں جہاں ان کی نسل کے لوگ رہتے ہیں۔ حال میں پارٹی کی کوشش رہی ہے کہ اپنے سر سے اس الزام کا دھبہ دور کرکے یہ ثابت کرے کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح کی عام پارٹی ہے۔ لیکن چند ہفتے پہلے بی بی سی نے اس کے بارے میں ایک فلم دکھائی تھی جو اس کے رپورٹر نے چوری چھپے ریکارڈ کی تھی اور اس میں بی این پی کے لیڈر اسلام کو بد ذات مذہب کہتے ہوئے نظر آئے تھے۔ اب پولیس کے محکمہ نے اپنے سارے سٹاف کو اس پارٹی کی رکنیت سے منع کردیا ہے۔ اور ہدایت کردی ہے کہ حکم عدولی کی گئ تو ملازمت سے برخاست کردیا جائے گا۔ پولیس کے محکمے کا کہنا ہے کہ ہمارا یہ فرض ہے کہ تمام نسلوں کے لوگوں کے ساتھ برابری کا برتاؤ کریں۔ جو پارٹی ، خاص طور سے بی این پی اس پالیسی کے خلاف ہے ہم اس سے کوئی واسطہ نہیں رکھیں گے۔ بی این پی کے ایک ترجمان نے اس پر رائے دیتے ہوۓ کہا ہے کہ پولیس میں بہت کافی لوگ ہماری پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ حکم جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||