ایران یورپی یونین مذاکرات ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلجیم میں ایرانی نمائندوں اور یورپی یونین کے افسران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نےمذاکرات کے بارے میں بالکل مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ ایران کی درخواست پر برسلز میں ہونے والی اس بات چیت کو اس لحاظ سے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس کی ناکامی کی صورت میں جوہری توانائی کا بین الاقوامی ادارہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سیکورٹی کونسل کے سپرد کر سکتا ہے۔ ایک برطانوی ترجمان نے بات چیت کے بعد کہا کہ یورپی یونین کے نمائندوں نے اس بات چیت میں کوئی نئی بات نہیں سنی جبکہ ایرانی نمائندے جاوید وعیدی کے مطابق مذاکرات بہت کامیاب رہے اور انہیں امید ہے کہ یہ جاری رہیں گے۔ ایران اور برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کی درخواست ایران نے کی تھی۔ یورپی یونین کے ان تین ممالک کے علاوہ امریکہ، روس اور چین کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت کا ایک الگ دور پیر کو لندن میں بھی ہو رہا ہے۔ اس بات چیت میں یہ چھ ممالک رواں ہفتے میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے اجلاس سے پہلے اپنے موقف کو حتمی شکل دیں گے۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر عالمی ادارہ اس کے جوہری پروگرام کا معاملہ سیکورٹی کونسل کو بھجواتا ہے تو وہ ادارے کے ساتھ تعاون فوری طور پر ختم کر دے گا۔ واضح رہے کہ ایران کی طرف سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے یورپی یونین اور امریکہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے حوالے کر دیا جائے۔ مبصرین کے مطابق لندن میں ہونے والی بات چیت میں امریکہ اور یورپی یونین کے تینوں ممالک سلامتی کونسل کے دوسرے مستقل ارکان یعنی روس اور چین کو اپنے موقف سے آگاہ کریں گے۔
اب تک چین اور روس اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایران کو مزید وقت دیا جانا چاہیے تاہم دونوں ممالک نے اس امکان کو بھی مکمل طور رد نہیں کیا کہ جوہری توانائی کا بین الاقوامی ادارہ ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ سیکورٹی کونسل کے سپرد کر دے۔ | اسی بارے میں روس کے ساتھ معاہدہ ہوگیا: ایران28 January, 2006 | آس پاس ایران کو اسرائیل کی دھمکی21 January, 2006 | آس پاس ایران پر ہنگامی اجلاس طلب18 January, 2006 | آس پاس سمجھوتے کے لیے تیار ہیں: ایران18 January, 2006 | آس پاس مغرب بھی ذمہ دار ہے: سعود الفیصل16 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||