سفارت کاروں پر جاسوسی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی ٹیلیویژن نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ان کا دعوٰی ہے کہ برطانوی سفارتکاروں کو ماسکو کی جاسوسی کرتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں چند افراد، جوکہ اپنے آپ کو روسی خفیہ ایجنسی کے اہلکار بتاتے ہیں، یہ تصدیق کر رہے ہیں کہ انہوں نے برطانوی سفارتکاروں کے ایک جاسوسی کے منصوبے کا پردہ چاک کیا ہے۔ ماسکو میں برطانوی سفارتخانے کے اہلکاروں نے ان الزامات کے بارے میں کوئی بیان جاری کرنے سے گریز کیا ہے تاہم روس کی اندرونی خفیہ سروس ایف ایس بی کے اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نےجاسوسوں کے ایک گروہ کا انکشاف کیا ہے جس کی بنیاد برطانوی سفارتخانے میں ہے۔ روس کے قومی ٹی وی پر دکھائی جانے والی اس ویڈیو کے مطابق برطانیہ کے مبینہ خفیہ ایجنٹ ایک نقلی پتھر کے ٹکڑے میں جدید ترین ٹرانسمیٹر آلہ نصب کرکے اسے ماسکو کی ایک گلی میں نصب کردیتے ہیں۔ اس پروگرام کے مطابق یہ آلہ چار برطانوی اہلکاروں نے ایک روسی شہری سے رابطے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس روسی شہری کو انہوں نے اپنے ایجنٹ کے طور پر چنا ہے۔ یہ جاسوس مبینہ طور پر اس پتھر کے پاس سے گزرتے ہیں اور اپنے پام ٹاپ (دستی کمپیوٹر) کے ذریعے اس سے معلومات اپ لوڈ یا ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں برطانوی سفارتکاروں پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ روس کے حقوق انسانی اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کو فنڈز فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ ملک میں جمہوریت کے قیام کے نام پر آواز اٹھائیں۔ روسی حکام پہلے بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ مغربی خفیہ ایجنسی کے گروپ ملکی تنظیموں کو استعمال کرتے ہیں تاکہ ملک میں عدم استحکام پھیلایا جاسکے۔اس ماہ کے آغاز میں روس کے صدر نے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت غیر سرکاری تنظیموں پر حکومتی کنٹرول بڑھا دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں پرائیویٹ کالز کی جاسوسی کا اعتراف 18 December, 2005 | آس پاس چین: صحافی پر جاسوسی کا الزام05 August, 2005 | آس پاس مصر سےاسرائیلی ’جاسوس‘ رہا05 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||