حج: بھگدڑ میں 345 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ منٰی کے قریب حج کے دوران بھگدڑ میں کم سے کم 345 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جائے وقوعہ پر موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا ہے کہ اس نے احرام میں ملبوس درجنوں لاشیں زمین پر پڑی ہوئی دیکھیں ہیں۔ بھگدڑ کا یہ واقعہ شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران پیش آیا۔ مغربی سعودی عرب میں سِول ڈیفنس فورسز کے سربراہ عادل زمزانی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایک حادثہ پیش آیا ہے‘ اور ’کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں لیکن تعداد نہیں معلوم ہے۔‘ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ بھگدڑ کی وجہ یہ تھی کہ بسوں پر سے سامان اور تھیلے گرتے چلے گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حاجیوں کا ہجوم منٰی کی طرف شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے بڑھ رہا تھا۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سعودی سکیورٹی سروسز کی جانب سے کنٹرول کا کوئی نظام وہاں نہیں تھا اور لوگوں کا ہجوم چاروں طرف سے وہاں اکٹھا ہورہا تھا۔ حاجی ہاتھ میں ہاتھ ملاکر اس مقام کی جانب گروہوں کی شکل میں بڑھتے تھے جہاں شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ ماضی میں بھی شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ کے واقعات میں کئی حاجی ہلاک ہوتے رہے ہیں۔ سن دوہزار چار میں ایک بھگدڑ دوران دو سو حجاج کی ہلاکت کے بعد سعودی حکام نے وہاں رکاوٹیں بنا رکھی تھیں تاکہ ہجوم کو منظم کیا جاسکے۔ | اسی بارے میں حج بھگدڑ: اڑتیس پاکستانی بھی ہلاک01 February, 2004 | آس پاس کمیٹی کا قیام، ہلاکتوں میں اضافہ03 February, 2004 | آس پاس حج: سخت حفاظتی انتظامات28 January, 2004 | آس پاس حج پر سخت حفاظتی انتظامات 16 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||