BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 January, 2006, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حج: بھگدڑ میں 345 افراد ہلاک
پہلے بھی منیٰ میں بھگڈر سے کئی ہلاک ہو گئے
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ منٰی کے قریب حج کے دوران بھگدڑ میں کم سے کم 345 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

جائے وقوعہ پر موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا ہے کہ اس نے احرام میں ملبوس درجنوں لاشیں زمین پر پڑی ہوئی دیکھیں ہیں۔

بھگدڑ کا یہ واقعہ شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران پیش آیا۔

مغربی سعودی عرب میں سِول ڈیفنس فورسز کے سربراہ عادل زمزانی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایک حادثہ پیش آیا ہے‘ اور ’کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں لیکن تعداد نہیں معلوم ہے۔‘

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ بھگدڑ کی وجہ یہ تھی کہ بسوں پر سے سامان اور تھیلے گرتے چلے گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حاجیوں کا ہجوم منٰی کی طرف شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے بڑھ رہا تھا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سعودی سکیورٹی سروسز کی جانب سے کنٹرول کا کوئی نظام وہاں نہیں تھا اور لوگوں کا ہجوم چاروں طرف سے وہاں اکٹھا ہورہا تھا۔ حاجی ہاتھ میں ہاتھ ملاکر اس مقام کی جانب گروہوں کی شکل میں بڑھتے تھے جہاں شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔

ماضی میں بھی شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ کے واقعات میں کئی حاجی ہلاک ہوتے رہے ہیں۔ سن دوہزار چار میں ایک بھگدڑ دوران دو سو حجاج کی ہلاکت کے بعد سعودی حکام نے وہاں رکاوٹیں بنا رکھی تھیں تاکہ ہجوم کو منظم کیا جاسکے۔

اسی بارے میں
حج: سخت حفاظتی انتظامات
28 January, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد