BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 February, 2004, 09:12 GMT 14:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حج بھگدڑ: اڑتیس پاکستانی بھی ہلاک
جمرات
مناسک حج کے دوران رمی جمرات کا مرحلہ خطرناک ہوتا ہے
سعودی عرب میں منٰی کے مقام پر شیطان کو کنکریاں مارنے کا فریضہ ادا کرتے وقت عازمین حج میں بھگدڑ مچ گئی جس میں اڑتیس پاکستانی عازمین حج سمیت دو سو چوالیس حاجی ہلاک ہوگئے۔

منیٰ میں پیش آنے والے اس حادثے کی اطلاعات ابھی موصول ہو رہی ہیں اور امدادی کام کرنے والے کا خیال ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس واقعہ میں تریباً ڈھائی سو عازمین حج کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق یہ واقعہ جمرات کے پل کے قریب اس وقت پیش آیا جب حاجی شیطان کو کنکریاں مارنے کا فریضہ ادا کر کے لوٹ رہے تھے۔

اس سلسلے میں حکومت پاکستان کے ڈائریکٹر حج، بہر اللہ ہزاروی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے عازمین حج میں اڑتیس پاکستانی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا ’وزیر حج نے جو تعداد بتائی ہے اس میں تقریباً دو سو سوالیس زخمی بھی شامل ہیں۔‘

’پچاس افراد ایسے ہیں جن کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ عموماً عازمین حج کلائی پر ایک کنگن نما چیز پہن لیتے ہیں جس میں ان کا پاسپورٹ نمبر ہوتا ہے۔ ہم ابھی تحقیقات کررہے ہیں کہ ہمارے کتنے لوگ گمشدہ ہیں تاہم کوئی حتمی بات کچھ دیر بعد ہی کہی جاسکتی ہے۔‘

ڈائریکٹر حج بہر اللہ ہزاروی نے کہا ’ہم تھوڑی دیر بعد یہ بھی بتا سکنے کے قابل ہوں گے کہ شہید ہونے والے پاکستانیوں کو تعلق کس علاقے سے ہے۔ ہمارے پاس ان کا سارا ڈیٹا موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا ’بھگدڑ تقریباً ستائیس منٹ تک جاری رہی۔‘

ایک سوال کے جبواب میں انہوں نے بتایا ’افریقی ممالک کے قدآور اور بڑے جثے کے لوگوں کو کوئی مناسب تربیت نہیں دی جاتی اور وہ جتھوں کی شکل میں عرفات اور منٰی میں آتے ہیں کیونکہ انہیں قربانی کی بھی جلدی ہوتی ہے۔اگرچہ سعودی حکومت کے خصوصی اہلکار وہاں کھڑے ہوتے ہیں اور اب انہوں نے جمرات کا وہ علاقہ بھی کافی وسیع کردیا ہے لیکن پھر بھی اگر سو سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افریقی عازمین حج آجائیں تو مشکل ہوجاتی ہے۔ ہم نے اپنے (پاکستانی) عازمین حج کو بتادیا تھا کہ جو اوقات ہیں یہ بھیڑ کے اور رش کے اوقات ہیں۔ افریقی عازمین حج خیال نہیں کرتے مگر پھر بھی یہ واقعہ پیش آیا جس پر ہمیں افسوس ہے۔‘

مناسک حج کے دوران ہر سال اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ گزشتہ سال بھگدڑ کی وجہ سےچودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس سے پہلے پندرہ افراد جان بحق ہو گئے تھے۔

ہرسال دنیا بھر سے بیس لاکھ سے زیادہ مسلمان حج کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد