BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حاجیوں پر کیا گزرتی رہی؟
دوران حج بھگدڑ
دوران حج بھگدڑ مچنے سے ہلاکتیں ہونا معمول بنتا جارہا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ کے قریب منٰی میں حج کے دوران بھگدڑ مچ جانے کے نتیجے میں تقریباً دو سو چوالیس عازمین حج ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل بھی ماضی میں ایسے کئی واقعات ہوچکے ہیں جن کی بنا پر سینکڑوں عازمین حج ہلاک ہوتے رہے ہیں۔

انیس سو ستّاسی میں مکہ میں مغرب مخالف مظاہروں کے دوران تقریباً چار سو عازمین حج، جن میں بڑی تعداد ایرانی شیعہ عازمین کی تھی، حفاظتی اداروں کے اہلکاروں سے جھڑپوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

انیس سو نوے میں مکہ میں سرنگ میں مچنے والی بھگدڑ کے نتیجے میں ایک ہزار چار سو چھبیس عازمین کچل کر ہلاک ہوئے تھے جن کی اکثریت کا تعلق انڈونیشیا اور ترکی سے تھا۔

انیس سو چورانوے میں منٰی میں پل جمرات کے قریب بھگدڑ مچ جانے سے شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے جمع دو سو ستر عازمین حج ہلاک ہوئے تھے۔

انیس سو ستانوے میں منٰی کے قریب ہی عازمین حج کے خیموں میں آگ لگ جانے کے نتیجے میں تین سو تینتالیس عازمین حج ہلاک ہوئے تھے۔

انیس سو اٹھانوے میں پل جمرات کے قریب بھگدڑ مچ جانے سے ایک سو انیس عازمین ہلاک ہوئے تھے۔

سن دو ہزار ایک میں پل جمرات کے قریب بھگدڑ مچ جانے سے پینتیس عازمین ہلاک ہوئے تھے۔

سن دو ہزار تین میں پل جمرات کے قریب بھگدڑ مچ جانے سے ایک سو چودہ عازمین ہلاک ہوئے تھے۔

اور اب سعودی وزارت حج کے حکام کے مطابق اس برس یعنی سن دو ہزار چار میں اسی پل جمرات کے قریب بھگدڑ مچ جانے سے دو سو چوالیس عازمین ہلاک ہوئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد