راجستھان: ریل لنک کے لیے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست راجھستان کے منابھاؤ ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر دن کی واحد ریل کی آمد کے ساتھ ہی زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہ صبح دس بجے کا وقت ہے اور اس پہلی ریل سے درجنوں مسافروں کے اترنے کے بعد ہر طرف چہل پہل اور شور شرابے کا سماں ہے۔ سٹیشن پرنصب ایک سائن بورڈ کے مطابق بھارتی حدود کا یہ آخری سٹیشن ہے۔ پاک بھارت ریل رابطے بحال کرنے کی تجویز کے بعد اس سٹیشن کی تعمیر نو اور توسیع کا کام جاری ہے۔ تجویز یہ ہے کہ ٹرینیں کھوکراپارکر اور منابھاؤ ریلوے سٹیشنوں کے درمیان چلائی جائیں گی۔ پہلے اس کے لیے یکم جنوری کی تاریخ رکھی گئی تھی تاہم بھارتی ریلوے کے حکام کے مطابق اب اس منصوبے پر کچھ تاخیر کے ساتھ وسط جنوری سے عمل درآمد شروع ہوسکے گا۔ اس ریلوے سٹیشن پر تعمیراتی کام زور و شور سے جاری ہے اور نواحی گاؤں میں اس نئے منصوبے کے بارے میں خاصی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ درگارام چودہری نامی سکول کے ایک استاد نے اس سٹیشن کوصرف ایک نظر دیکھنے کے لیے تقریباً پچاس میل کا سفر طے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ یہاں نیا پلیٹ فارم تعمیر کیا جارہا ہے اور وہ بھی بین الاقوامی معیار کا‘۔ پلیٹ فارم کی تعمیر نو کے ٹھیکیدار جگدیش چودہری کا کہا ہے کہ تمام کام ایک ہفتہ میں مکمل ہوجائے گا۔ ایک عمارت کے کمرے کی طرف اشارہ کرکے انہوں نے بتایا کہ یہاں مسافر امیگریشن کے لیے آیا کریں گے۔ اس کے علاوہ یہاں کسٹمز ہال، روانگی کا ہال اور چائے اور مشروبات کا انتظام بھی ہوگا۔ ایک پروجیکٹ انجینئر نے بتایا ’تمام نظام تجرباتی طور پر ایک مرتبہ چلایا جاچکا ہے اور سب نتائج ہماری توقعات کے مطابق نکلے ہیں‘۔ پاک سرحد اس سٹیشن سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بھارتی حصے میں ایک تین میٹر اونچی باڑ صاف طور پر دونوں ممالک کی حدود کو تقسیم کرتی ہے۔ اس باڑ کے درمیان ایک بڑا لوہے کا گیٹ ہے جس پر ایک بڑا تالا لگاہے۔ فصیل پر نظر رکھنے کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکار تعینات ہیں۔ اسی علاقے میں بلڈوزر بھی زمین کو ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ سرحد کے دونوں اطراف سڑک بنائی جارہی ہے۔ ’جب ریل بھارتی حدود میں داخل ہوگی تو فوجیوں کے ہمراہ اس سٹیشن تک لائی جائے گی‘۔ اس علاقے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری ریل قریباً چالیس برس پہلے چلی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب دونوں ممالک کے مابیں کشمیر کے معاملے پر اختلافات سر اٹھارہے تھے۔ دیوی سنگھ سدھا کھوکراپارکرروانہ کی جانے والی آخری ٹرین کی ٹیم میں شامل تھے۔ ان کی عمر اب بہتر برس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انیس سو پینسٹھ سے قبل پاکستان اور بھارت باری باری اپبی ٹرین روانہ کرتے تھے۔اس علاقے میں دونوں ملکوں کےدرمیان آخری ٹرین بھارت کی تھی جو تین ستمبر کو چلائی گئی تھی۔ ان کے مطابق جب وہ کھوکراپارکر پہنچے تھے تو انہوں نے اس ٹرین کو وہیں روک لیے جانے کے احکامات سنے تاہم انہوں نے پھرتی دکھائی اور ریل واپس بھارتی حدود میں لے گئے۔ ان کا کہنا ہے ’یہ ایک مشکل فرار تھا‘۔ جب سدھا سے کہا گیا کہ یہ کہانی تو کسی ہندی فلم کی کہانی لگتی ہے تو وہ اس پر بہت لطف اندوز ہوئے۔ اب ایک بار پھر دونوں ممالک کے تعلقات بہتری کی جانب مائل ہیں۔ سدھا کا کہنا ہے کہ اس ریل کی بحالی سے کئی غریب افراد کو روز گار بھی ملے گا۔ | اسی بارے میں ’سیلف گورننس پرمزید بات ہو گی‘26 December, 2005 | پاکستان سرکریک پر پاک بھارت مذاکرات 20 December, 2005 | انڈیا امرتسر سےلاہور، آزمائشی سفر11 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||