سوال پوچھے جا سکتے ہیں: شام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام نے کہا ہے کہ لبنانی لیڈر رفیق حریری قتل کی تفتیش کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم صدر بشر الاسد کےرشتہ داروں سے سوال پوچھ سکتی ہے۔ برطانیہ میں شام کے سفیر سمیع الخیامی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی انکوائری ٹیم نے شام کے عہدیداروں سے انٹرویو کے کبھی بھی درخواست نہیں کی ہے۔ شام کے سفیر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی تحقیاتی ٹیم نے شامی عہدیداروں کے انٹرویو کے لیے کوئی وجہ بھی نہیں بتائی ہے۔ اقوام متحدہ کی انکوئری ٹیم کے سربراہ ڈیٹلو مہلس تحقیات دوبارہ شروع کرنے کے لیے لبنان واپس پہنچ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کر رکھی ہے جس کے مطابق اگر شام تفتیش میں غیر مشروط تعاون نہیں کرتا تو اس کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ شام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ اس مضروضے پر مبنی ہے کہ شام لبنان کے مرحوم صدر رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک انکوائری کے مطابق شام اور لبنان میں شام کا موقف رہا ہے کہ انکوائی ٹیم بغیر کوئی ثبوت پیش کیے یہ الزام لگا رہی ہے کہ شام کے سرکاری اہلکاروں نے تفتیش کاروں کے ساتھ جھوٹ بولا اور تفتیش کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ ہفتے تفتیشی ٹیم کے مرکزی تفتیش کار ڈیٹلِومہلِس نے کہا تھا کہ شامی سرکاری اہلکاروں نے جھوٹ بولا اور تفتیش کا رخ موڑنے کی کوشش کی۔ | اسی بارے میں شام پر پابندیاں لگ سکتی ہیں31 October, 2005 | آس پاس روس: شام پر پابندیاں ناقابل قبول27 October, 2005 | آس پاس شامی وزیرداخلہ: خودکشی کی تفتیش13 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||