افغانستان: ’خاتون امیدوار کامیاب‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے پارلیمانی انتخابات میں حکام نے ابتدائی نتائج کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق ایک خاتون امیدوار ملالائی جویہ کامیاب ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جنگجو سرداروں کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید نتائج آئندہ چند روز میں موصول ہوں گے۔ ستائیس سالہ جویہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے آئین سازی کے لیے بلائے گئے ایک اجلاس میں افغانستان میں سابق ملیشیا رہنماؤں کے خلاف بات کر کے شہرت حاصل کی تھی۔ نامہ نگاروں کے مطابق نئی پارلیمان کے مکمل ہونے اور تمام نتائج کے موصول ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ حکام نے کہا کہ تین سو پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی کا امکان ہے جو پولنگ سٹیشنوں کی کل تعداد کا تین فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں باقاعدہ دھاندلی کا ثبوت نہیں ملا۔ دریں اثناء بہت سے افغان اس صورتحال سے ناخوش ہیں جس میں امیدواروں کی بڑی تعداد یا تو جنگجو سردار تھے یا ان کا تعلق ان سرداوں سے تھا۔ جن سرداروں کے جیتنے کا امکان بتایا جا رہا ہے ان میں عبدالرسول سیاف شامل ہیں اور کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر ان کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ ایک اور امیدوار حضرت علی کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے ان کا ایک جنگجو تنظیم سے تعلق ہے۔ اٹھارہ ستمبر کو ہونے والے ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح پچاس فیصد رہی جو دو ہزار چار میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں کم ہے۔ انتخابات کے مکمل نتائج بائیس اکتوبر تک متوقع ہیں۔ دو ہزار آٹھ سو امیدواروں نے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا۔ صوبائی کونسلوں کی چونتیس نشستوں کے لیے تین ہزار لوگ میدان میں تھے۔ خواتین کے لیے پچیس فیصد نشتیں مختص ہیں۔ افغانستان طالبان کی حکومت کے خاتمے بعد یہ انتخابات وہاں جمہوریت کے قیام کے عالمی منصوبے کا آخری مرحلہ تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||