چار سابق سیکورٹی چیف گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے سلسلے میں لبنانی صدر کی سیکورٹی کے سربراہ سمیت مزید تین سابق سربراہوں کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیاہے۔ فروری میں ہونے والے بم حملہ میں رفیق حریری سمیت اکیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی ٹیم گرفتار ہونے والوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ چاروں گرفتار ہونے والوں کا شام سے قریبی تعلق بتایا جاتا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں جنرل سکیورٹی کےسابق سربراہ جمال السید بھی ہیں۔ شام پررفیق حریری کے قتل کا الزام لگایا جاتا رہا ہے لیکن اس نےاس الزام کی تردید کی ہے ۔ علاوہ ازیں اس پررفیق حریری کے قتل کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی اس تفتیشی کاروائی میں خلل ڈالنے پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ اس کیس کی تفتیش پر معمور اقوام متحدہ کے تفتیش کار ڈیٹلو مہلس سیکورٹی کونسل میں اس کیس کے سلسلے میں اپنی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں پیش کریں گے۔ اس کیس کے پانچویں مشتبہ ناصر قندیل کی پولیس کوتلاش ہے جنہیں لبنان کی پارلیمان میں شام کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔ پولیس نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپے مارے ہیں مگر ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ شام چلے گئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کم گھیٹس کا کہنا ہے کہ رفیق حرحری کے قتل کے سلسلے میں ہونے والی یہ گرفتاریاں انتہائی اہم ہیں۔ منگل کی صبح چھاپوں کے بعد داخلی سکیورٹی فورسز کےسابق سربراہ علی الحج اور سابق ملٹری انٹیلجنس کے سربراہ ریمنڈ آزر کو گرفتار کیا گیا۔ انیس سو نوے کے بعد سےجمال السید کوسیکورٹی اور لبنان سے شام کی فوجوں کے انخلاء کے بعد سے ایک اہم شخصیت تصور کیا جاتا تھا۔ اس سال کےآغاز میں رفیق حریری کے قتل کے بعد عوامی دباؤ پرالسید نے ساتھیوں سمیت استعفی دے دیا تھا۔ ڈیٹلو مہلس کی ٹیم کو کسی بھی شخص کی گرفتاری کے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں لبنان کی حکومت سے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں تعاون فراہم کا معاہدہ کر رکھا ہے لہذا انہیں کسی بھی کاروائی کے لیے داخلی سکیورٹی سروسز کی خدمات لینی ہوں گی۔ لبنان کے قانون کے مطابق ان چاروں افراد کو صرف اڑتالیس گھنٹوں تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے اور اس کے بعد ان پر یاتو باقاعدہ فرد جرم عائد کی جائے گی یا انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||