BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 August, 2005, 01:49 GMT 06:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
المسعری نے ویب سائٹ بند کردی
محمد المسعری
ڈاکٹر محمد المسعری انیس سو چورانوے سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔
برطانیہ میں مقیم ایک ملک بدر سعودی مذاحمت کار ڈاکٹر محمد المسعری نے اپنے متنازع ویب سائٹ کے کچھ حصے بند کر دیے ہیں۔

ان کا یہ اقدام برطانوی حکومت کے کچھ نئے قواعد کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے جن کے تحت دہشت گردی کی حمایت کرنے یا نفرت بڑھانے والے افراد کو برطانیہ سے خارج کیا جا سکے گا۔

ماضی میں ڈاکٹر المسعری کی ویب سائٹ پر اسرائیل اور عراق میں خود کش حملوں کی تصاویر لگی رہی تھیں اور اس کے علاوہ القاعدہ کے حامیوں کے پیغامات بھی اس پر شائع کیے جاتے تھے۔

ڈاکٹر المسعری کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ بند کرنے کا فیصلہ ان کا تھا لیکن ان کی ویب سائٹ آزادی اظہار کے قتل میں ماری گئی ہے۔

خیال ہے کہ اٹھاون سالہ ڈاکٹر المسعری ان افراد میں شامل ہیں جن کو ملک سے نکالنے پر برطانوی خکومت اس وقت غور کر رہی ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ کسی طرح سے دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں یا کہ وہ دہشت گرد کارروائیوں کو سراحتے ہیں ۔

ڈاکٹر المسعری انیس سو چورانوے سے لندن میں مقیم ہیں جب سے انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ مانگی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو یہاں سے نکالے جانے کے بارے میں زیادہ فکر نہیں ہے اور وہ ایسے کسی فیصلے کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لندن کوئی زمینی جنت تو نہیں ہے، وہ اور تمام جگہوں جیسی ہی ہے۔ ہم اور کوئی جگہ ڈھونڈ لیں گے جہاں ہم آزادی سے اپنے اراء کا اظہار کر سکیں۔‘

برطانوی وزیر داخلہ چارلز کلارک نے پچھلے ہفتے ایک فہرست جاری کی تھی جس میں غیر ملکیوں کے لیے تمام ایسے طور طریق کی تفصیل دی ہوئی تھی جو برطانیہ میں نا قابل قبول قرار دی گئی ہیں۔ یہ نا قابل قبول رویہ ان کو ملک بدر کرنے کا بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم کئی تنظیموں نے وزارت داخلہ کی ان نئے قواعد پر بہت تنقید کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’ایمنیسٹی‘ کا کہنا ہے کہ یہ غیر واضح اصول ہیں اور ’دہشت گرد‘ اور ’نا قابل قبول‘ کو مختلف لوگ مختلف طریقے سے سمجھ سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے میں ان قواعد کی وجہ سے برطانیہ میں انسانی حقوق کی پامالی ہو سکتی ہے۔

برطانیہ میں مسلمانوں کی تنظیم ’مسلم کونسل آف برٹین‘ کا بھی کہنا ہے کہ یہ نئے اصول انتہائی وسیع اور غیر حتمی ہیں۔

تاہم برطانوی وزیر داخلہ کا موقف ہے کہ حکومت کسی ایسے شخص کو برداشت نہیں کرے گی جو منافرت یا تفریق پیدا کر کے ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کر تا ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد