فضائی حادثے کی تحقیقات شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونانی حکام نے ایتھنز کے قریب قبرص کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور طیارے کے دونوں بلیک باکس ڈھونڈ لیے گئے ہیں۔ قبرص کی فضائی کمپنی کا یہ 737 مسافر طیارہ جس میں ایک سو اکیس افراد سوار تھے ایتھنز کے شمالی مشرق میں گر کر تباہ ہو گیا تھا اور طیارے پر موجود تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یونانی فائر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’حادثے میں کوئی نہیں بچا‘۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے جائے حادثہ پر لاشیں بکھری دیکھی ہیں جنہوں نے آکسیجن ماسک پہن رکھے تھے۔ بظاہر یہ طیارہ کاک پٹ میں ہوا کا دباؤ کم ہونے سے ہوابازوں کے بے ہوش ہو جانے کے بعد ایتھنز کے نزدیک واقع پہاڑیوں میں گر گیا تھا۔ حادثے کی تحقیق کرنے والے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا کاک پٹ میں ہوا کا دباؤ اتنی تیزی سے کم ہوا کہ پائلٹ نہ تو آکسیجن ما سک پہن سکے اور نہ ہی جہاز کو کم بلندی پر لا سکے۔
یونانی ٹی وی کے مطابق حادثے سے چند لمحہ قبل ایک مسافر نے ایک ٹیکسٹ پیغام دیا تھا جس میں اس نے اطلاع دی تھی کہ جہاز کے اندر درجہ حرارت انتہائی کم ہو گیا ہے اور جہاز کے پائلٹ سردی کی وجہ سے نیلے پڑ گئے ہیں۔ اس پیغام میں لکھا تھا ’ میرے دوست ہم سب منجمد ہو چکے ہیں اور میں تمہیں الوداع کہتا ہوں‘۔ یونانی حکومت کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ جہاز کے گرنے کو ابتدائی طور پر ایک حادثہ تسلیم کیا گیا ہے اور اسے دہشت گردی نہیں مانا جا رہا ہے۔ یونانی حکام نے بھی بتایا کہ رابطہ منقطع ہونے کے بعد یونانی فضائیہ کے طیاروں نے اس جہاز کو جزیرہ نما یوبوئی کے اوپر اس حالت میں محوِ پرواز دیکھا کہ کیبن میں پائلٹ بے ہوش تھے۔ جب یہ طیارے دوسری مرتبہ جہاز کے پاس سے گزرے تو ان کے پائلٹوں نے دو افراد کو جہاز کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔ حکام کے مطابق یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ افراد عملے کے تھے یا کوئی مسافر۔
قبرص سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جہاز کے پائلٹوں نے رابطہ منقطع ہونے سے قبل جہاز میں ہوا کے دباؤ کےنظام میں خرابی کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور تباہ ہونے والے جہاز میں یہ خرابی پہلے بھی سامنے آ چکی تھی۔ جہاز پر سوار مسافروں کے رشتہ دار اس حادثے کی خبر ملتے ہی لرناکا ائر پورٹ پر جمع ہو گئے اور چھ گھنٹے کی انتظار کے بعد انہیں یہ موقع ملا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے نام جہاز کے مسافروں کی فہرست میں تلاش کر سکیں۔ اپنے پیاروں کی موت کی تصدیق کے بعد متعدد افراد بیہوش ہو گئے اور انہیں ہسپتال لے جا نا پڑا۔ فضائی کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ جہاز میں زیادہ تر قبرصی مسافر سوار تھے جن میں 48 بچے بھی تھے جو پراگ جا رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر ’ چند یونانی اور اکّا دکّا غیرملکی سوار تھے‘۔ قبرصی حکومت نے اس حادثے کے بعد تین دن کے عوامی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||