BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 August, 2005, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمر بکری کےداخلے پر پابندی
 عمر بکری محمد
عمر بکری محمدگزشتہ ہفتے برطانیہ سے لبنان چلے گئے تھے
شدت پسند مسلمان مبلغ عمر بکری محمد کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

برطانوی محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ چارلس کلارک نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ عمر بکری کی برطانیہ میں موجودگی برطانوی عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔

وزارتِ داخلہ کی وزیر ہیزل بلیئر کا کہنا تھا کہ عمر بکری پر پابندی کا فیصلہ ایک قابلِ عمل اور مفید فیصلہ ہے اور اسے بڑے پیمانے پر سراہا جائے گا۔

لندن میں عمر بکری کے ترجمان انجم چودھری نےاس پابندی کو آزادی رائے کے اصول کی ناکامی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ عمر بکری برطانیہ کی مسلمان آبادی کے لیے اہم اثاثہ ہیں اور ان پر لگائی گئی پابندی سے برطانوی عوام اور مسلمانوں کو نقصان ہو گا‘۔

اسی اثناء میں عمر بکری کو لبنانی حکام نے رہا کر دیا ہے۔ انہیں گزشتہ روز شام کی درخواست پر گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں ایک ٹی وی انٹر ویو کے بعد گرفتار کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک ناپسندیدہ شخصیت کے طور پر واپس برطانیہ نہیں جائیں گے۔ عمر بکری محمدگزشتہ ہفتے برطانیہ سے لبنان چلے گئے تھے۔ عمر بکری کے پاس لبنان اور شام کی شہریت ہے۔

عمر بکری محمد شمالی لندن کے علاقے ٹاٹنھم میں رہائش پذیر رہے ہیں اور ایک شدت پسندگروہ المہاجرون کے روحِ رواں بھی ہیں۔

ان کی شخصیت اس وقت متنازعہ بن گئی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ اگر انہیں پتہ ہوتا کہ مسلمان برطانیہ میں بم حملوں کی تیاری کر رہے ہیں تو بھی وہ برطانوی پولیس کو نہ بتاتے۔

عمر بکری لبنانی نژاد ہیں اور انہیں 1980 میں سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہونے کے بعد برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے کی اجازت دی گئی تھی جو کہ اب برطانوی وزیرِ داخلہ نے منسوخ کر دی ہے۔

ان کی اہلیہ اورخاندان ابھی بھی برطانیہ میں ہی مقیم ہے اور وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ عمر بکری پر پابندی کا اثر ان کے خاندان پر نہیں پڑے گا۔

عمر بکری کے سات بچے ہیں جو کہ سب برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے ہیں۔ ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ بکری کا خاندان سرکاری مراعات حاصل کرتا رہے گا جبکہ عمر بکری کو ملنے والی مراعات روک دی جائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد