مصر بم حملے: پاکستانیوں کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصری پولیس شرم الشیخ میں ہونے والے تین بم حملوں کے سلسلے میں چھ پاکستانیوں کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس نے چھ افراد کی تصاویر جاری کی ہیں جن کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ قاہرہ کے ایک ہوٹل سے اس ماہ کے آغاز میں غائب ہو گئے تھے۔ دھماکوں میں اب تک 64 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہسپتال ذرائع اسے 88 سے زائد بتاتے ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد مصری باشندوں کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ترک، برطانوی، چیک، ہالینڈ، روسی، یوکرائن، اور اسرائیلی عرب شامل ہیں۔ پوچھ گچھ کے لیے 70 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ تفتیش کرنے والے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کہیں ان حملوں کا تعلق سنائی میں سیاحوں پر ایک برس پہلے ہونے والے حملوں سے تو نہیں ہے۔ پولیس نے شرم الشیخ کے نزدیک واقع بدوؤں کے دو گاؤں رویسات اورخوروم کا بھی محاصرہ کر لیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ مشتبہ چھ پاکستانیوں میں سے دو ان گاؤں میں چھپے ہوئے ہیں۔ پولیس نے اس بات کی بھی تصدیق کر دی ہے کہ مشتبہ پاکستانی دھماکوں سے قبل لاپتہ ہوئے اور وہ شرم الشیخ کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر نہیں تھے۔ عرب ٹی وی چینلوں نے دو مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کی ہیں اور ان کے نام محمد اختر اور تصدق حسین بتائے گئے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں پاکستانی باشندوں کا ملوث ہونا عجیب بات ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ مصر کی حکومت نے اس سلسلے میں ابھی تک پاکستان سے رابطہ نہیں کیا۔ نعیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پاکستانیوں کی بم دھماکوں میں ملوث ہونے سے متعلق مصر کی حکومت کے خیالات نہیں جانتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||